Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
69 - 831
جاہلیت میں   قریش کی طرف سے شہنشاہی درباروں  ، یا کسی بھی قسم کے دیگر قبائل سے جنگی معاملات نمٹانے کے لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی سفیر کا فریضہ سر انجام دیتے تھے، اور جب قریش کا کسی دوسری قوم سے تنازع کھڑا ہوتا تو آپ ہی اپنی قوم کی نمائندگی کرتے۔(1)
(4)…فاروقِ اعظم اور مختلف قبائل کی نسب دانی:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، آپ کے والد اور دادا تینوں   بہت بڑے ماہر انساب تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خاندان میں   سفارت کاری اور فیصلۂ منافرت دونوں   موروثی اُمور تھے اور اِن دونوں   کی انجام دہی کے لیے یقیناً اَنساب کا جاننا نہایت ضروری تھا۔ نسب دانی آپ نے اپنے والد سے سیکھی، یہی وجہ ہے کہ جب نسب سے متعلق گفتگو فرماتے تو اپنے والد کا حوالہ دیا کرتے تھے۔(2)
(5)…فاروقِ اعظم کی پہلوانی اور کشتی کے فن میں   مہارت:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلوانی اور کشتی کے فن میں   بھی کمال حاصل کیا،’’عُکَاظ‘‘ کے دنگل میں   معرکے کی کشتیاں   لڑتے تھے،’’عُکَاظ‘‘ جبلِ عرفات کے پاس ایک مقام تھا جہاں   ہر سال اِس غرض سے میلہ لگتا تھا کہ عرب کے تمام اَہلِ فن جمع ہوکر اپنے کمالات کے جوہر دکھلاتے تھے، اِس لیےاِس میلے میں   صرف وہی لوگ پیش پیش ہوتے تھے جو کسی نہ کسی فن میں   کمال رکھتے تھے۔ جلیل القدر صحابی ثناخوانِ بارگاہِ رسالت حضرت سیِّدُنا حسان بن ثابت، حضرت سیِّدُنا قس بن ساعدہ، سیدتنا خنساء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمجیسے شعراء کی شہرت کا باعث بھی یہی میلہ تھا۔(3)
حضرت سیِّدُنا ابو التیاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مجلس میں   اس بات کو بیان کیا کہ ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی تو انہوں   نے اس سے فرمایا: ’’کیا تمہیں   معلوم ہے کہ جو شخص دونوں   ہاتھوں   سے کام کیا کرتا تھا یعنی عمر اس نے اسلام قبول کرلیا ہے؟‘‘ چرواہے نے کہا: ’’کیا تم اس شخص کی بات کررہے ہو جو عکاظ کے میلے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اسد الغابۃ، عمر بن الخطاب، ج۴، ص۱۵۷۔
2…البیان والتبیین، باب أسجاع، ج۱، ص۳۰۴۔
3…تاریخ مدینہ منورۃ، ج۱، ص۲۹۱، ۳۹۴ ماخوذا۔