آیات کی مٹھاس آپ کے رگ وپے میں فوراً سرایت کرگئی، جو آپ کے قبول اسلام کا باعث بنی۔ (1)
کفار قریش میں امتیازی خصوصیت:
مؤرخین وسیرت نگاروں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لکھنے پڑھنے کو ایک امتیازی خصوصیت کے طور پر بیان کیا ہے اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ جس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لکھنا پڑھنا سیکھا اس وقت لکھنے پڑھنے کو بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا یہ کہ قریش میں جب اسلام داخل ہوا اس وقت قرشی قبائل میں صرف سترہ آدمی لکھنا جانتے تھےان ہی میں سے ایک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے۔(2)
(2)…فاروقِ اعظم اورعبرانی زبان کا علم:
حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سیِّد عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لائے اور عرض کی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہ تورات کانسخہ ہے۔‘‘ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا توآپ نے اُسے پڑھنا شروع کیا۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ مبارکہ کا رنگ متغیر ہونا شروع ہوگیا، آپ کو اس کیفیت کا معلوم نہ تھا، جب سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے توجہ مبذول کروائی تو آپ ڈر گئے اور بارگاہِ رسالت میں عرض کرنے لگے: ’’میں اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غضب سے ربّ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں ، ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہیں ۔‘‘(3)
مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عربی کے ساتھ ساتھ عبرانی زبان بھی جانتے تھے۔
(3)…فاروقِ اعظم اور سفارت کاری کے فرائض:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے دست و بازو پر بڑا اعتماد رکھتے تھے، کیونکہ آپ سردارانِ قریش میں سے تھے، دورِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ الخلفاء، ص۸۸۔
2…فتوح البلدان، ج۳، ۵۸۰، الرقم:۱۱۰۴۔
3…دارمي، باب ما یتّقي من تفسیر۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۱۲۶، حدیث:۴۳۵ ۔