Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
67 - 831
 اِذَا عَمِلْتُ وَیَضْرِبُنِیْ اِذَا قَصَرْتُ وَقَدْ اَصْبَحْتُ وَاَمْسَیْتُ  وَلَيْسَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اللہِ اَحَدٌ اَخْشَاہُ یعنی تمام تعریفیں   اس رب عَزَّ وَجَلَّکے لیے ہیں   جس کے سوا کوئی معبود نہیں  ، وہ جسے چاہتا ہے جو چاہتاہے عطا فرماتا ہے، ایک وہ زمانہ تھا کہ میں   اسی وادی ضجنان میں   اپنے والد خطاب کے اونٹ چرایا کرتا تھا اور وہ بہت سخت طبیعت کا مالک تھا، مجھ سے کام کرواکر تھکا دیتا، جب میں   کوئی کوتاہی کرتا تو مجھے مارتا ، میرے صبح وشام یوں   ہی گزرتے اور آج   (اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم سے) وہ دن ہے کہ میرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ما بین کوئی ایسا شخص نہیں   جس کا مجھے خوف ہو۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی جوانی
دَورِ جاہلیت میں   فاروقِ اعظم کی صفات:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شباب (جوانی) کا جب آغاز ہوا تو اُن اُمور کی طرف توجہ کی جو شرفائے عرب کا معمول تھے، عرب میں   اُس وقت جن چیزوں   کی تعلیم وتربیت دی جاتی تھی اور جو اُمور شرافت کے لیے لازم خیال کیے جاتے تھے اُن میں   نسب دانی، سپہ گری، پہلوانی اور خطابت جیسی صفات سرفہرست تھیں  ۔دورِ جاہلیت میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی ذات میں   یہ تمام صفات پیدا کرلیں   تھیں   جن کا اُس وقت شرفا ئے قریش ورؤسائے قریش میں   پایاجانا ضروری تھا، بعض صفات تو آپ کو ورثے میں   ملی تھیں  ، جبکہ بعض آپ نے خود ہی کوشش کرکے اپنے اندر پیدا کرلیں   تھیں  ۔زمانۂ جاہلیت میں   آپ کی ذات میں   پائی جانے والی چند صفات کا تذکرہ پیش خدمت ہے:
(1)…فاروقِ اعظم اور لکھنے پڑھنے کی صفت :
جوانی میں   قدم رکھتے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سب سے پہلے اس بات کی طرف توجہ کی کہ لکھنا پڑھنا سیکھنا چاہیے لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زمانہ جاہلیت میں   ہی لکھنا پڑھنا جانتے تھے اس بات کا اندازہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایمان لانے والے واقعے سے بھی لگایا جاسکتاہے جب آپ کی سگی بہن حضرت سیدتنا اُمّ جمیل فاطمہ بنت خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قرآنی صحیفہ دیا جس میں   سورہ طہ کی آیات وغیرہ لکھی تھیں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بغیر کسی کی مدد کے اسے رَوَانی سے پڑھنا شروع کردیا اور قرآنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاستیعاب ، عمر بن الخطاب، ج۳،  ص۲۴۳  ، معجم البلدان، باب الضاد والجیم، ج۳، ص۲۲۵۔