Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
66 - 831
 کیونکہ ان کی خوشی محبوب کی خوشی میں   تھی، جب یہ دیکھتے کہ آج محبوب خوش ہیں   تو یہ بھی خوش ہوجاتے۔ البتہ اپنے عہدِ خلافت کی کوئی ایسی واضح روایت نہیں   ملتی کہ جس میں   آپ کے ہنسنے کا  تذکرہ ہو البتہ علمائے کرام نے اس بات کو ضرور بیان فرمایا ہے کہ آپ بہت ہی کم ہنستے تھے۔چنانچہ علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  : ’’کَانَ قَلِیْلُ الضِّحْکِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت ہی کم ہنسنے والے تھے۔‘‘(1)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
زمانۂ جاہلیت کی زندگی 
فاروقِ اعظم کا بچپن
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بچپن نہایت ہی تکلیفوں   میں   گزرا آپ کا والد طبیعت کے اعتبار سے بہت سخت اور اپنے کفریہ مذہب کے معاملے میں   بہت شدت رکھتا تھا۔اور خصوصاً تعلیم وتربیت سے تو اسے بہت شدید نفرت تھی اور یہ صرف اسی کی خاصیت نہیں   تھی بلکہ پورے عرب میں   ہی پڑھنے پڑھانے کو بہت معیوب سمجھا جاتا تھا، اور اپنی اسی جاہلیت کی وجہ سے پورا عرب کفر کی عمیق تاریکیوں   کے ساتھ ساتھ اخلاق رذیلہ کی پستیوں   میں   گر رہا تھا۔
فاروقِ اعظم بچپن میں   اونٹ چرایا کرتے تھے:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گزر بسر کے لیے اپنے والد کے اونٹ چرا یا کرتے تھے۔اور جب کچھ بڑے ہوئے تو والد کے اونٹوں   کے ساتھ ساتھ قبیلہ بنی مخزوم کے اونٹ بھی چرایا کرتے۔واضح رہے کہ عرب میں   اونٹوں   یا بکریوں   کو چرانا کوئی معیوب عمل نہیں   تھابلکہ یہ ان کا قومی شعار تھا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جس میدان میں   اونٹ چرایا کرتے تھے اس کا نام ’’ضَجْنَان‘‘ تھا جو مکہ مکرمہ سے تقریباً پندرہ میل دُور ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی حیات طیبہ کا آخری حج ادا کرکے اسی مقام سے گزرے تو آپ کو اپنا بچپن یاد آگیااور ارشاد فرمایا: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یُعْطِیْ مَنْ یَّشَاءُ مَا یَشَاءُ  لَقَدْ كُنْتُ بِھٰذَا الْوَادِیْ یَعْنِیْ ضَجْنَانَ اَرْعَى اِبِلاً لِلْخَطَّابِ وَكَانَ فَظًّا غَلَیْظًایُتْعِبُنِیْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مناقب امیر المؤمنین لابن الجوزی، الباب الثالث، ص۱۴۔