(7)…فاروقِ اعظم کے سفر کرنے کا مبارک انداز:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسے حضریعنی سفر کے علاوہ زندگی میں نہایت ہی سادگی اختیار فرماتے تھے بعینہ سفر میں بھی آپ کی یہی عادت مبارکہ تھی، نہ تو آپ اپنے ساتھ کوئی خیمہ وغیرہ لیتے اور نہ ہی کوئی سائبان، جہاں قیام کرنا ہوتا تو کہیں زمین پر کپڑا بچھا کر اسی پر لیٹ جاتے اور کبھی تو درخت پر چادر ڈال کر اس کے سائے میں آرام فرماتے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ حج ادا کیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سفر میں جہاں کہیں پڑاؤ کیا نہ تو وہاں خیمہ لگایا اور نہ ہی سائبان، بس درخت پر چادر اور چمڑے کا بڑا ٹکڑا ڈال دیتے اور اس کے سائے میں بیٹھ جاتے۔(1)
(8)…فاروقِ اعظم کےلباس کا مدنی انداز:
امیر المؤمنین ہونے کے باوجود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کبھی شاہانہ لباس کو ترجیح نہ دی ہمیشہ سادہ لباس ہی پہنا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ صرف ایک جبہ پہنا کرتے تھے اور اس میں بھی جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے، کہیں کہیں اس میں چمڑے کا بھی پیوند لگا ہوتاتھا۔بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قمیص پر تین پیوند جبکہ تہبندپر بارہ پیوندلگے ہوئے تھے۔یہاں تک کہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیت المقدس تشریف لے گئے تو آپ کے لباس پر چودہ پیوند لگے ہوئے تھے۔(2)
(9)…فاروقِ اعظم کی مسکراہٹ :
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان حکمرانوں کے سردار تھے جن پر فکر آخرت ہی غالب رہتی تھی، فکر آخرت کے سبب انہیں کبھی کوئی ایسا موقع ہی نہ ملتا تھا کہ وہ کھلکھلا کر ہنستے۔ عہدِ رسالت میں جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے تو بسا اوقات رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوجاتا تھا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ الاسلام ، ج۳، ص۲۶۹۔
2…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک مدنی لباس کی تفصیل کے لیے’’فیضانِ فاروقِ اعظم‘‘ جلد دوم ، باب فاروق اعظم بحثیت خلیفہ ،ص ۸۹ کا مطالعہ فرمائیے۔