زمین پر ہی آرام فرماتے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جسے کوئی منصب مل جائے اگرچہ وہ اس منصب پر متمکن ہونے سے پہلے سادہ زندگی گزارتا ہو لیکن منصب ملنے کے بعد اس کے طور طریقے میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور واقع ہوجاتی ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی جیسے ہی منصب خلافت پر متمکن ہوئے اُن کی حیاتِ مبارکہ میں بھی کافی تبدیلی آگئی لیکن یہ تبدیلی فکرِ آخرت سے بھرپور تھی، پہلے آپ عام زندگی گزار رہے تھے لیکن جیسے ہی منصبِ خلافت پر متمکن ہوئے تو زمین پر کچھ بچھائے بغیر ہی آرام فرما ہوجاتےاور دَوران سفر کوئی سائبان یا خیمہ وغیرہ ساتھ نہ رکھتے بلکہ کہیں پڑاؤ کرنا ہوتا تو کپڑا درخت پر ٹکا کر یا چمڑے کا ٹکڑا درخت پر ڈال کر اس کے سائے میں آرام کرلیتے ۔جیسا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرتِ طیبہ کا مشہور واقعہ ہے کہ روم کا ایلچی آپ کے بارے میں دریافت کرتا ہوا جب آپ کے پاس پہنچا تو آپ زمین پر آرام فرمارہے تھے۔ وہ یہ دیکھ کر حیران وششدر رہ گیا کہ مسلمانوں کا امیرکتنے سکون سے زمین پر آرام فرماہے حالانکہ اس کے رعب اور جلال سے قیصروکسریٰ کانپتے ہیں ۔(1)
(6)… فاروقِ اعظم کے کام کرنے کا مبارک انداز:
بسا اوقات حکمرانوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے بہت ہی کم کام کرتے ہیں اکثر حکم دے کر اپنے ما تحتوں سے کام لینے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات مبارکہ میں ایسی کوئی عادت نہ تھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں ہاتھوں سے بیک وقت کام کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا سلمہ بن اکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :’’کَانَ عُمَرُ رَجُلٌ اَعْسَرُ یَعْنِی یَعْتَمِدُ بِیَدَیْہِ جَمِیْعاً یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اچھی طرح کام کرنے والے تھے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ الاسلام ، ج۳، ص۲۶۹، تفسیر کبیر،پ۱۵، الکھف، تحت الآیۃ:۹، ج۷، ص۴۳۳۔
2…تاریخ الخلفاء، ص۱۰۳۔