Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
63 - 831
(3)…فاروقِ اعظم کے گفتگو کرنے کا مبارک انداز:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بولنے اور بات کرنے کا نہایت ہی مبارک انداز تھا، عام معاملات میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی گفتگو کا انداز بہت نرم تھالیکن آپ کے چہرہ مبارکہ کی وجاہت اور رعب ودبدبے کی وجہ سے اس میں   شدت محسوس ہوتی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت میں   لوگوں   کو سب سے زیادہ حق بات کہنے کا حوصلہ ملا۔لیکن جہاں   کہیں   شرعی معاملے کی خلاف ورزی ہوتی وہاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سختی فرماتےاور یقیناً یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔بیسیوں   واقعات ایسے ملتے ہیں   کہ جہاں   کہیں   اسلامی غیرت کا معاملہ آتا وہاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوراً جلال میں   آجاتے ۔
(4)…فاروقِ اعظم کے بیٹھنے کا مبارک انداز:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مکمل سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیٹھتے بہت کم تھے ہر وقت کسی نہ کسی کام میں   مصروف رہا کرتے تھے، البتہ جب بیٹھتے تھے تو  چار زانوں   بیٹھا کرتے تھے، چنانچہ امام زہر ی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سے روایت ہے : ’’كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَجْلِسُ مُتَرَبِّعاً یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عموماً چار زانوں   بیٹھا کرتے تھے ۔‘‘(1)
(5)…فاروقِ اعظم کے سونے کا مبارک انداز:
بسا اوقات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہلیٹتے تو ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر چڑھا لیاکرتے تھے۔ چنانچہ امام زہر ی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  سے روایت ہے :’’كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَسْتَلْقِیْ عَلٰی ظَھْرِہٖ وَیَرْفَعُ اِحْدٰى رِجْلَيہُ  عَلَی الْاُخْرٰی یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب لیٹنے تو ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر چڑھا لیا کرتے تھے۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
کا مطالعہ فرمائیے۔
1…طبقات کبریٰ، ذکر استخلاف عمر ، ج۳، ص۲۲۳۔
2…طبقات کبریٰ، ذکر استخلاف عمر ، ج۳، ص۲۲۳ملتقطا۔