Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
62 - 831
فاروقِ اعظم کے مبارک انداز
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حسن ظاہری کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ان کا پیارا سراپا ہمارے سامنے موجود ہے، ساتھ ہی دل میں   یہ بھی خیال آتا ہے کہ اس پیاری ہستی کے چلنے ، کھانے، سونے وغیرہ کے بھی کتنے ہی پیارے اور مبارک انداز ہوں   گے۔اگرچہ اسی کتاب میں   آگے یہ تمام باتیں   بالتفصیل ذکر کی جائیں   گی لیکن قارئین کے ذوق کو برقرار رکھنے کے لیے اِجمالاً آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چند مبارک انداز پیش خدمت ہیں  :
(1)…فاروقِ اعظم کے چلنے کا مبارک انداز:
حضرت سیِّدُناسماک بن حرب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :’’کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَرْوَحُ کَاَنَّہُ رَاکِبٌ وَالنَّاسُ یَمْشُوْنَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کشادہ قدموں   کے ساتھ چلا کرتے تھے اور چلتے ہوئے ایسا لگتا گویا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کسی سواری پرسوار ہیں   اور دیگر لوگ پیدل چل رہے ہیں  ۔ ‘‘(1)
(2)…فاروقِ اعظم کے کھانے کا مبارک انداز:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی متقی اور پرہیزگار تھے، قطعی جنتی ہونے کے باوجود ہمیشہ فکر آخرت دامن گیر رہتی تھی اور یہی فکر آپ کو بھوکا رہنے پر اکساتی رہتی تھی، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خوارک نہایت ہی قلیل تھی،کبھی جو کی ر وٹی کے ساتھ زیتون، کبھی دووھ،کبھی سرکہ، کبھی سُکھایا ہوا گوشت تناول فرماتے،تازہ گوشت بہت ہی کم استعمال کرتے تھے، کبھی دو کھانے اکٹھے نہیں   کھائے ۔منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایسی خشک روٹی کھایا کرتے تھے کہ عام لوگ اسے کھانے سے عاجز آجائیں  ۔ نیز کھانا کھاتے ہوئے روٹی کے کناروں   کو علیحدہ کرکے کھانا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سخت ناپسند تھا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاصابۃ، ذکر من اسمہ عمر، ج۴، ص۴۸۵، الرقم: ۵۷۵۲۔
2…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سادگی سے بھرپور مبارک کھانوں   کی تفصیل کے لیے’’فیضان ِفاروقِ اعظم‘‘جلد دوم ،ص۸۰