کی آنکھیں لال سرخ اور رخساربہت ہی پتلے اورکمزورتھے۔(1)
فاروقِ اعظم کی داڑھی مبارکہ:
حضرت سیِّدُنا ابو عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ’’کَانَ کَثُّ اللِّحْیَۃِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی داڑھی مبارکہ گھنی و گھنگریالی تھی۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم کی داڑھی گھنی تھی:
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، عظیم البرکت، مجدددین وملت، پروانہ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’شیخ محقق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں :’’عادت سلف دریں باب مختلف بود آوردہ اند کہ لحیہ امیر المومنین علی پرمی کرد سینہ اُورا وھمچنیں عمر وعثمان رضی ﷲ تعالی عنھم اجمعین و نوشتہ اند کان الشیخ محی الدین رضی ﷲ تعالی عنہ طویل اللحیۃ وعریضھا یعنی اسلاف کی عادت اس بارے میں مختلف تھی چنانچہ منقول ہے کہ امیر المومنین حضر ت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی داڑھی ان کے سینے کو بھردیتی تھی اس طرح حضرت فاروقِ اعظم اور حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی مبارک داڑھیاں تھیں ، اور لکھتے ہیں کہ شیخ محی الدین سیِّدُنا عبدالقادر جیلانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لمبی اور چوڑی داڑھی والے تھے۔ ‘‘(3)
فاروقِ اعظم کی مونچھیں :
(1)امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مونچھیں درمیان سے پست اور دائیں بائیں سے بڑھی ہوئی تھیں ۔ حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’سَبَالَتَہُ کَثِیْرَۃُ الشَّعْرِ اَطْرَافُھَا صَھْبَۃٌ یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مونچھوں کے بال دائیں بائیں سے کافی بڑھے ہوئے تھے اور اُن میں بھورا پن بھی تھا۔ (4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معرفۃ الصحابۃ ،معرفۃ نسبۃ الفاروق، معرفۃ صفۃ عمر، ج۱، ص۶۹، الرقم:۱۷۰ ملتقطا۔
2…الاستیعاب ، عمر بن الخطاب، ج۳، ص۲۳۶، الرقم: ۱۸۹۹۔
3…فتاویٰ رضویہ ، ج۲۲، ص۵۸۴ ۔
4…معرفۃ الصحابۃ، معرفۃ نسبۃ الفاروق، معرفۃ صفۃ عمر، ج۱، ص۶۹، الرقم:۱۷۰۔
الاستیعاب ، عمر بن الخطاب، ج۳، ص۲۳۶۔