فاروقِ اعظم کا حسنِ ظاہری
فاروقِ اعظم کی مبارک رنگت :
حضرت سیِّدُنا ابن قتیبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ’’کوفہ کے لوگوں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جو حلیہ بیان کیا ہے اُس کے مطابق آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا رنگ گہرا گندمی تھا۔جبکہ اہل حجا ز نے جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا حلیہ بیان کیا ہے اس کے مطابق آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رنگت بہت سفید تھی بلکہ ایسی سفید تھی جیسے چونا ہوتا ہےاور لگتا تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جسمِ مبارک میں خون ہی نہیں ہے۔‘‘(1)
علامہ واقدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’جنہوں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گندمی رنگ ہونے کا قول کیا ہے ان کی بات درست نہیں کہ انہوں نے آپ کو ’’عَامُ الرَّمَادَ ہ‘‘ یعنی قحط سالی والے سال دیکھا تھا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سال دودھ اور چربی وغیرہ کھانا چھوڑ دیا تھا صرف زیتون کا تیل استعمال فرماتے ہیں جس کے سبب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رنگت گندمی ہوگئی تھی۔‘‘علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے بھی بعض فاروقی حضرات سے یہی قول نقل کیا ہے۔(2)
فاروقِ اعظم کا قد مبارک:
حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور اکثر لوگوں نے یہی بیان کیا ہے کہ’’ کَانَ عُمَرُ طَوِیْلًا جَسِیْماً یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لمبے قد والے اور بھاری جسم والے تھے۔‘‘ چند لوگوں میں جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوتے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیگر لوگوں کو اوپر سے دیکھ رہے ہیں ۔(3)
فاروقِ اعظم کی مبارک آنکھیں اور رخسار:
حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معرفۃ الصحابۃ،معرفۃ نسبۃ الفاروق، معرفۃ صفۃ عمر، ج۱، ص۶۹، الرقم:۱۷۰ ملتقطا، ریاض النضرۃ، ج۱، ص۲۷۴۔
2…تاریخ الخلفاء، ص۱۰۳، الاصابۃ ،عمر بن الخطاب، ج۴، ص۴۸۴، الرقم: ۵۷۵۲۔
3…معرفۃ الصحابۃ ، معرفۃ نسبۃ الفاروق، معرفۃصفۃ عمر، ج۱، ص۶۹ الرقم: ۱۷۰،ریاض النضرۃ، ج۱، ص۲۷۴، تاریخ الخلفاء، ص۱۰۳۔