فاروقِ اعظم کی پیدائش پر خوشی کا اظہار:
حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پیدائش پر آپ کے گھر والوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں ایک دن ہم بیٹھے تھے کہ اچانک ہم نے شور کی آواز سنی، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ خطاب کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے۔(1)
علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن وہب اور وہ مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک رات حضرت سیِّدُنا عمرو بن العاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خطاب کے گھر میں روشنیاں نظر آئیں ، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ خطاب کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے۔(2) (یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پیدا ہوئے ۔)
فاروقِ اعظم کی جائے پرورش:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مکہ مکرمہ میں ہی پیدا ہوئے اور مکہ مکرمہ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جائے پرورش ہے، بچپن سے لے کر جوانی تک، نیز مدینہ منورہ ہجرت سے قبل تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مکہ مکرمہ میں ہی زندگی گزاری۔
دورِ جاہلیت میں فاروقِ اعظم کا گھر:
حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہمحمد بن سعد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُمورِ مکہ کے عالم حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن محمد مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سےپوچھا: ’’زمانہ جاہلیت میں امیر المومنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا گھر کہاں تھا؟‘‘آپ نے فرمایا: ’’سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی رہائش گا ہ اس پہاڑ پر تھی جو آج کل ’’جبل عمر ‘‘کے نا م سے مشہور ہے، زمانہ جاہلیت میں اس کانا م’’عاقر ‘‘تھا پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نا م سے منسوب کر دیا گیا،اسی پہاڑ پر قبیلہ بنو عدی (سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قبیلہ )آباد تھا۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۱۶۔
2…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب الاول، ص۱۳۔
3…طبقا ت کبری ،ذکر استخلاف عمر،ج۳،ص۲۰۱۔