Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
56 - 831
وَعُمَرَ بِسُوْءٍ فَاقْتُلُوْ ہُ فَاِنَّمَا یُرِیْدُ الْاِسْلَامَ یعنی جسے تم دیکھو کہ وہ شیخین یعنی حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی برائی بیان کررہا ہے تو اسے قتل کردو کیونکہ وہ اسلام کی برائی کررہا ہے۔‘‘ (1)
حضرت علامہ عبدالرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اس حدیث مبارکہ کی شرح میں   فرماتے ہیں  : ’’یعنی اس شخص نے سیِّدُنا صدیق اکبر وسیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی برائی کرکے اسلام کی برائی کی ہے اور اس میں   عیب نکالا ہے کیونکہ یہ دونوں   شیخ الاسلام ہیں   اور ان ہی کے ذریعے دین کی بنیادیں   قائم ہیں  ، گویا ان کی برائی کرنا اسلام کی برائی کرنا ہے ، قتل کا حکم اس شخص کے لیے جو ان کی شان میں   ایسی توہین آمیز بکواس کرے جو کفریات پر مشتمل ہو۔‘‘(2)
واضح رہے کہ مذکورہ گستاخ شخص کو قتل کرنے کا اختیار حاکم اسلام کو ہے عام شخص کے لیے نہیں  ۔
القاباتِ فاروقِ اعظم بزبان اعلی حضرت
اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، امامِ اہلسنت، مجددِدین وملت ، عاشقِ ماہ نبوت، پروانۂ شمعِ رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے فتاویٰ رضویہ شریف میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اِن گیارہ القابات کے ساتھ یاد فرمایا ہے: (1) امیر المؤمنین (2) غیظ المنافقین (3) امام العادلین (4) اسلام کی عزت (5) اسلام کی شوکت (6) اسلام کی قوت (7) اسلام کی دولت (8)اسلام کے تاج (9) اسلام کی معراج (10) عِزُّ الْاِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِیْن یعنی اسلام اور مسلمانوں   کی عزت (11) سَیِّدُ الْمُحَدَّثِیْن ۔(3)
القابات فاروقِ اعظم بزبان امیر اہلسنت
عاشقِ اعلی حضرت، امیر اہلسنت، شیخ طریقت، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے رسالے’’کراماتِ فاروقِ اعظم‘‘ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اُن کے چالیسویں   نمبر پر مسلمان ہونے کی عظیم نسبت سے اِن چالیس اَلقابات کے ساتھ یاد فرمایا ہے:(1) امیر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جامع صغیر، حرف المیم، ص۵۲۷،حدیث: ۸۶۹۱۔
2…فیض القدیر، ج۶، ص۱۷۳، تحت الحدیث: ۸۶۹۱ ملخصا۔
3…فتاویٰ رضویہ، ج۲۲، ص۶۴۳، ۴۰۴، ج۱۰، ص۷۶۷، ج۱۵، ص۵۷۵۔