وجہ بھی بالکل ظاہر ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر قاتلانہ حملہ نماز فجر میں اس وقت ہوا جب آپ نے اِمامت شروع کروائی یقیناً اُس وقت آپ محراب میں موجود تھے اور اُسی سے آپ کی شہادت ہوئی اسی لیے آپ کو ’’شَھِیْدُ الْمِحْرَاب‘‘ کہا جاتا ہے۔آپ کی شہادت کے تفصیلی واقعات اسی کتاب میں وصال کے باب میں ملاحظہ کیجئے۔
(11)…لقب ’’شیخ الاسلام‘‘ اور اس کی وجہ
سیِّدُنا ابوبکر وعمر شیخ الاسلام ہیں :
(1)حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی بارگاہ میں ایک قرشی شخص آیا اور عرض کرنے لگا: ’’ہم آپ کو خطبے میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنتے ہیں : اَللّٰہُمَّ اَصْلِحْنَا بِمَا اَصْلَحْتَ بِہِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِي ِیِّیْنَیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں بھی ان خوبیوں کے ساتھ آراستہ فرما جن کے ساتھ تونے ہدایت یافتہ اورہدایت دینے والے خلفاء کو آراستہ فرمایا۔ تو ان خلفاء سے مراد کون سی مبارک ہستیاں ہیں ؟‘‘یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ غمگین ہوگئے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، ارشاد فرمایا: ’’ھُمْ حَبِیْبَایَ اَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ اِمَامَا الھُدٰى وَشَیْخَا الْاِسْلَامِ وَرِجْلَا قُرَیْشٍ وَالْمُقْتَدٰى بِهِمَا بَعْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ اقْتَدٰى بِهِمَا عُصِمَ وَمَنِ اتَّبَعَ آثَارَھُمَاھُدِیَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ وَ مَنْ تَمَسَّكَ بِهِمَا فَھُوَمِنْ حِزْبِ اللہِ وَحِزْبُ اللہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یعنی میری مراد میرے دو محبوب دوست حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہیں ، یہ دونوں ہدایت کے امام ہیں ، شیخ الاسلام ہیں ، مردان قریش ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد ان ہی دونوں کی اقتداء کی جاتی ہے، جس نے ان دونوں کی اقتداء کی وہ محفوظ ہوگیا اور جس نے ان دونوں کی سیرتِ طیبہ پر عمل کیا وہ صراط مستقیم پر چل پڑا اور جس نے ان دونوں کی ذات مبارکہ کو مضبوطی سے تھام لیا تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گروہ میں شامل ہوگیااور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔‘‘(1)
(2) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : ’’مَنْ رَاَ یتُمُوْ ہُ یَذْكُرُ اَبَا بَكْرٍ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مناقب امیر المؤمنین عمربن الخطاب، الباب التاسع عشر، ص۴۱۔