Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
54 - 831
(8)…لقب’’مُراد رسول‘‘اور اس کی وجہ 
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’مرادِ رسول‘‘ بھی کہا جاتاہے۔کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مراد ہیں   اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   اپنے رب عَزَّ وَجَلَّسے مانگا ۔چنانچہ  اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   یوں   دعا فرمائی: ’’اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّۃً یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! خصوصاًعمر بن خطاب (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے اسلام کو عزت عطا فرما۔(1) معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ ہستی ہیں   جن کی اسلام آوری کے لیے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خصوصی دعا فرمائی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ گویا مرادِ رسول ہیں  ۔
(9)…لقب ’’مِفْتَاحُ الْاِسْلَام‘‘ اور اس کی وجہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو’’مفتاح الاسلام‘‘بنایا ہے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دو جہاں   کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھ کر مسکرادیئے اور ارشاد فرمایا: ’’اے ابن خطاب ! تمہیں   معلوم ہے میں   کیوں   مسکرایا؟‘‘ عرض کیا:’’ اَللہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَم یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہی بہتر جانتے ہیں  ۔‘‘فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عرفات کی رات تمہاری طرف شفقت و رحمت کی نظر فرمائی اور تمہیں   مِفْتَاحُ الْاِسْلَام (یعنی اسلام کی چابی) قرار دیا۔‘‘(2)
(10)…لقب ’’شہید المحراب‘‘ اور اس کی وجہ
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک لقب ’’شَھِیْدُ الْمِحْرَاب‘‘ بھی ہے، اس کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ابن ماجہ، کتاب السنۃ، فضل عمر رضی اللہ تعالی عنہ، ج۱، ص۷۷، حدیث: ۱۰۵۔
2…ریاض النضرۃ ،ج۱،ص۳۰۸۔