نہ ماننے کے سبب اس منافق کی گردن تن سے جدا کردی۔(1)
اعلی حضرت،امامِ اہلسنت، مجدددین وملت مولانا شاہ امام احمد رضان خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے فتاویٰ رضویہ شریف میں جگہ جگہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسی لقب ’’غَیْظُ الْمُنَافِقِیْن‘‘ کو آپ کے نام کے ساتھ ذکر فرمایاہے، نیزآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے منقول خطبات بنام ’’خطباتِ رضویہ‘‘ میں بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نام کے ساتھ یہ لقب موجود ہے۔
(7)…لقب’’سَیِّدُ الْمُحَدَّثِیْن‘‘ اور اس کی وجہ
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’سَیِّدُ الْمُحَدَّثِیْن‘‘ بھی کہا جاتاہے۔ ’’مُحَدَّث‘‘عربی زبان میں اس شخص کو کہا جاتاہے جسے صحیح اور درست بات کا الہام(یعنی رب تعالی کی طرف سے اشارہ) ہو۔وہ جب بھی کوئی بات کرے تو حق کے موافق ہو اور یقیناً کسی بندے کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے یہ بہت بڑے مرتبے اور شرف کی بات ہےاور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس عزت وعظمت سے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مشرف فرمایا۔اور خود حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’مُحَدَّث‘‘ ارشاد فرمایا۔چنانچہ، حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے:اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’پچھلی اُمتوں میں کچھ لوگ مُحَدَّث ہوتے تھے، اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تووہ بلا شبہ عمر بن خطاب ہے۔‘‘(2)
علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خاص طور پر ذکر کرنے کا سبب یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کلام کی موافقت میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانہ مبارکہ میں ہی بہت سی آیات نازل ہوگئی تھیں ۔اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانۂ مبارکہ کے بعد بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے ہمیشہ حق کے موافق ہی رہی۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر مدارک، پ۵، النساء، تحت الآیۃ:۵۹، ص۲۳۴ ملخصا، درمنثور، پ۵، النساء، تحت الآیۃ:۶۰، ج۲، ص۵۸۲۔
2…بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۲۷، حدیث:۳۶۸۹۔
3…فتح الباری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب عمر بن اٰلخطاب۔۔۔الخ، ج۸، ص۴۴، تحت الحدیث:۳۶۸۹ ملخصا۔