Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
52 - 831
 عقل مند اور سب سے زیادہ بہادر ہیں  ۔‘‘(1) 
(5)…لقب ’’امام العادلین‘‘ اور اس کی وجہ
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے دورِ خلافت میں   عدل وانصاف کا ایسا عظیم الشان نظام قائم فرمایا کہ قیامت تک اِنْ شَآ ءَ اللّٰہ 
عَزَّ وَجَلَّ تمام حکمران اس سے فیض یاب ہوتے رہیں   گے۔ اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد آنے والے کئی حکمرانوں   نے آپ ہی کے عدل وانصاف سے عدل کرنا سیکھا۔اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’امام العادلین ‘‘کہا جاتا ہے۔اعلی حضرت، عظیم البرکت، امام اہلسنت، مجدددین وملت ، عاشق ماہ نبوت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضان خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے بھی ’’فتاویٰ رضویہ شریف‘‘ میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس لقب سے یاد فرمایا ہے۔(2)
(6)…لقب ’’غَیْظُ الْمُنَافِقِیْن‘‘ اور اس کی وجہ
قرآن مجید پارہ ۲۶ سورۃ الفتح آیت نمبر ۲۹میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی خصوصیات کو واضح طور پر بیان فرمایا گیا ہے، جوپہلی خصوصیت بیان کی گئی ہے وہ ہے’’اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ‘‘ یعنی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کفار کے معاملے میں   بہت سخت ہیں  ۔ کفر کی بدترین قسم منافقت ہے، جس کا ظاہر ایمان اور باطن کفر ہووہ منافق ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ شان تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی خداداد فہم وفراست سے فوراً منافقین کو پہچان لیتے اور اِن کی ہر طرح سے پکڑ فرماتے نیزان کی اِسلام دشمنی کو بالکل ناکام بنادیتے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’غَیْظُ الْمُنَافِقِیْن‘‘ کہا جانے لگا یعنی منافقین پر بہت سختی فرمانے والے۔چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک یہودی اور منافق رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس فیصلہ کروانے گئے تونبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہودی کے حق میں   فیصلہ فرمادیا۔اس کے بعد منافق نے فاروقِ اعظم کی بارگاہ سے فیصلہ کرانے پر اصرار کیا، جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس کے متعلق علم ہوا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فیصلہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اتحاف الخیرۃ المھرۃ، کتاب المناقب،  فیما اشترک فیہ۔۔۔الخ، ج۹، ص۲۱۴، حدیث:۸۸۴۷ ملتقطا۔
2…فتاویٰ رضویہ، ج۶، ص۵۳۱۔