Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
50 - 831
لقب ’’امیر المومنین‘‘ کی دوسری وجہ:
حضرت سیدتنا شفاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا جو پہلے ہجرت کرنے والی عورتوں   میں   سے ہیں   روایت کرتی ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر عراق کو لکھا کہ میرے پاس دو تندرست و دانا عراقی آدمی بھیجو جو مجھے یہاں   کے حالات سے آگاہ کریں  ۔ تو عراق کے گورنر نے حضرت سیِّدُنا لبیدبن ربیعہ عامری اور سیِّدُنا عدی بن حاتم طائی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بھیجا۔ وہ مدینہ منورہ میں   آئےاوراپنی سواریوں   کو بٹھا کر مسجد میں   داخل ہوئے جہاں   حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ موجود تھے۔ انہوں   نے سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہا: ’’آپ امیر المومنین سے ہمارےحاضر ہونے کی اجازت طلب کریں  ۔‘‘یہ سن کر سیِّدُنا عمروبن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا:’’خدا کی قسم ! تم نے ان کا صحیح نام تجویز کیا ہے، ہم مومنین ہیں  ، اور وہ ہمارے امیر ہیں  ۔‘‘ سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاندر گئے اورحضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے یوں   گویا ہوئے:’’یَااَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْن!‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سنا تو فرمایا: ’’یہ نام تم کہاں   سے لے آئے ہو؟‘‘ انہوں   نے عرض کیا: ’’لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم طائی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا آئے ہیں  ، انہوں  نے اپنی سواریاں   باہربٹھائیں   اور مسجد میں   آکرمجھ سے کہا: ’’امیر المومنین کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی جائے۔‘‘میں   نے ان سے کہا: ’’تم نے درست نام تجویز کیا ہے، وہ امیر ہیں   اور ہم مؤمنین۔‘‘سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس سے پہلے اپنے مکتوبات(یعنی خطوط) میں   خلیفۂ خلیفۂ رسول‘‘ لکھتے تھے، پھر آپ نے ’’مِنْ عُمَرَ اَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْن‘‘ لکھنا شروع کردیا۔(1)
(3)…لقب ’’مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِیْن‘‘اور اُس کی وجہ
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک لقب ’’مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِیْن‘‘بھی ہے، جس کا معنی ہے چالیس کو پورا کرنے والا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام لانے سے قبل اُنتالیس لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور آپ نے قبول اسلام کرکے چالیس 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
منقول ہے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   ’’امیر المؤمنین‘‘ کا لقب عطا فرمایا، لیکن آپ خلفاء میں   سے نہ تھے اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ تھے۔(زرقانی علی المواھب، ج۱، ص۳۹۷)
1…اسدالغابہ ،عمر بن الخطاب، ج۴، ص۱۸۱۔