اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے جاملتا ہو اسے ’’فاروقی‘‘ کہتے ہیں جس طرح کسی کا سلسلۂ نسب امیر المؤمنین خلیفہ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے جاملتا ہوتو اسے ’’صدیقی‘‘ کہتے ہیں ۔
’’فاروقِ اعظم ‘‘کسے کہتے ہیں ؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ حق وباطل کے مابین’’ فارق‘‘ یعنی فرق کرنے والا ہیں ، لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’فاروقِ اعظم‘‘ اس وجہ سے کہا جاتاہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے زیادہ اس فریضے کو سرانجام دیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حق وباطل کے درمیان یہ فرق کرنے کی صلاحیت بارگاہِ رسالت سے خاص طور پرعطا ہوئی تھی۔چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جس دن اسلام لائے اسی دن آپ نے مسلمانوں کے ساتھ اعلانیہ کعبۃ اللہ شریف میں نماز اداکی اور طواف بیت اللہ بھی کیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اس دن دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود میرا نام ’’فاروق‘‘ رکھ دیا، کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے سبب سے حق و باطل میں امتیاز فرمادیا۔‘‘(1)
(2)…لقب ’’امیر المؤمنین‘‘اور اس کی وجوہات
سب سے پہلے آپ ہی نے امیر المؤمنین کا لقب پایا :
حضرت سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تو خلیفۂ رسولِ خدا کہا جاتا تھا، جب کہ مجھے یہ نہیں کہا جاسکتاکیونکہ میں تو سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خلیفہ ہوں اور(اگر مجھے خلیفۂ خلیفۂ رسولِ خدا کہا جائے تو) یوں بات طویل ہوجائے گی۔یہ سن کر حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بولے: آپ ہمارے امیر ہیں اور ہم مؤمنین ، تو آپ ہوئے’’ امیر المومنین‘‘۔یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:’’یہ صحیح ہے۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیۃ الاولیاء، عمر بن الخطاب، ج۱، ص۷۵، الرقم: ۹۳۔
2…الاستيعاب ، عمر بن الخطاب، باب عمر، ج۳، ص۲۳۹۔واضح رہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں بھی