Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
48 - 831
اورکفر وشرک کی گمراہیوں   کے خلاف اوردین اسلام کی روشنیوں   ورعنائیوں   کی حمایت میں   سختی سے تلوار بلند فرمائی جس سے چہار سو اسلام کا بول بالا ہوگیا ۔ اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ان ہی تمام واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
ترجمانِ نبی ہم زبانِ نبی
جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں   سلام
شرح: آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہخَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ہم زبان ہیں   کہ کئی دفعہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے سنے بغیر کوئی بات کہی اور وہ بعینہ ویسی ہی نکلی جیسا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا تھا۔اسی طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ترجمان ہیں   کہ کوئی مسئلہ بیان فرمایا اور بعد میں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے جب اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بعینہ وہی حدیث مبارکہ ملی جیسا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسئلہ بیان فرمایا تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے عدل وانصاف کی روح کو شان وشوکت حاصل ہوئی بلکہ اپنے  خلافت میں   ایسا عدل وانصاف قائم فرمایا جو قیامت تک آنے والے حکمرانوں   کے لیے مشعل راہ ہے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر لاکھوں   سلام ہوں  ۔
’’فاروق ‘‘کسے کہتے ہیں  ؟
’’فاروق‘‘ اسے کہتے ہیں   جو حق وباطل کے درمیان فرق کردے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِی ارشاد فرماتے ہیں  : ’’قِیْلَ لِعُمَرَ فَارُوْقُ لِفُرْقَانِہٖ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ بِاِحْكَامٍ وَاِتْقَانٍ یعنی کہا گیا ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فاروق اس لیے کہتے ہیں   کہ انہوں   نے حق وباطل کے درمیان پختگی اور یقین کے ذریعے فرق فرمایا۔‘‘(1)
فاروقی کسے کہتے ہیں  ؟
’’فاروقی‘‘ کا مطلب ہے ’’فاروق والا‘‘ ۔جس شخص کا سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیض القدیر، ج۵، ص۵۸۸، تحت الحدیث:۷۹۶۰ ملتقطا۔