وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قیامت کے دن اپنا اورصدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مقام بیان فرمایا۔ پھر ارشاد فرمایا:’’ قیامت میں یوں ندا آئے گی’’ عمر فاروق‘‘ کہاں ہیں ؟‘‘ چنانچہ انہیں حاضر کیا جائے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:’’ اے ابو حفص! تمہیں مبارک ہو،یہ ہے تمہارا اعمال نامہ، چاہو تو اسے پڑھ لو یا نہ پڑھو کیونکہ میں نے تمہاری مغفرت فرمادی ہے۔‘‘(1)
فارِق، فارُوق، فاروقی اور فاروقِ اعظم
’’فارق‘‘ کسے کہتے ہیں ؟
’’فارق‘‘کا معنی ہے ’’فرق کرنے والا‘‘ قطع نظر اس کے کہ وہ حق وباطل دونوں میں فرق کرے یا کوئی سی بھی دو اشیاء میں فرق کرے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی اس لیے ’’فارق‘‘ کہتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جس طرح حق وباطل کے درمیان فرق فرمایا اسی طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی خلافت راشدہ میں ہر ہر شے کو اس کی متبادل اشیاء سے جدا کرکے بالکل واضح کردیا۔
اعلی حضرت، عظیم البرکت، مجدددین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں :
فارق حق وباطل امام الھدی
تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں سلام
شرح: حق کوباطل وگمراہی سے جدا کرنے اور ہدایت دینے والے امام برحق حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس تلوار کی مثل ہیں جو اسلام کی حمایت میں سختی سے بلند کی جاتی ہے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر لاکھوں سلام ہوں ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب اسلام لے آئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اب ہم چھپ کر نماز وغیرہ ادا نہیں کریں گے۔‘‘ لہٰذا تمام مسلمانوں نے کعبۃ اللہ شریف میں جا کر نماز ادا کی تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حق کو باطل سے جدا کرنے کے سبب آپ کو ’’فاروق‘‘ لقب عطا فرمایا۔(2) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھایا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ ، ج۱،ص۲۷۳۔
2…تاریخ الخلفاء، ص۹۰۔