انہیں روشن کرنے کا خصوصی اہتمام فرمایا تاکہ لوگ رمضان المبارک کی راتوں میں آسانی سے نماز تراویح وغیرہ عبادات کا اہتمام کرسکیں ۔چنانچہ علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان فرماتے ہیں : ’’اَوَّلُ مَنْ جَعَلَ فِی الْمَسْجِدِ الْمَصَابِیْحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یعنی مساجد میں سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے روشنی کےلیےچراغ چلائے۔‘‘(1)
متولی کو کیسا ہونا چاہیے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس مذکورہ بالا تمام حکایات سے جہاں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مساجد سے بے پناہ عقیدت ومحبت کا پتہ چلتا ہے وہیں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مساجد کی خدمت کرنا ایک بہت ہی عظیم کا م ہے۔کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں مساجد کی خدمت کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔عرف عام میں آج کل ایسے خوش نصیبوں کو ’’متولی‘‘ کہا جاتاہے۔بعض مساجد میں مسجد کمیٹی یااس کے صدر کو بھی متولی کہا جاتاہے لہٰذاسیرتِ فاروقی کی روشنی میں ’’ایک متولی (یامسجد کمیٹی)کو کیسا ہونا چاہیے؟‘‘ سے متعلق چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں :
٭… ’’متولی کو چاہیے کہ خود کو مسجد کا خادم سمجھے اور مسجد کی خدمت میں یہ نیت کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھر کی خدمت کرکے اس کی رضا حاصل کروں گا، نہ یہ کہ لوگوں کے سامنے میرا وقار بلند ہواور مسجد کے معاملات پر میری اجارہ داری قائم ہو۔‘‘
٭… مسجد کمیٹی یا متولی وغیرہ بلکہ ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ مساجد کو غیر شرعی معاملات سے بچائے، اور مسجد کے آداب کا خصوصی اہتمام کرے مثلاشور شرابے، لڑائی جھگڑے، دنیاوی گفتگو، بھیک مانگنے، تھوکنے، انگلیاں چٹخانے،مسجد کو بچوں پاگلوں اور نجاست وغیرہ سے بچانے کا اہتمام کرے۔‘‘
٭… ’’مسجد کے انتظامی معاملات کے ساتھ ساتھ مسجد کو پاکیزہ رکھنے کا بھی خصوصی اہتمام کرے، اس کے لیے فقط مسجد کے خادم کی صفائی وغیرہ پر اکتفاء کرنے کے بجائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے بذات خود مسجد کی صفائی میں حصہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان،پ۱۰، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۸، ج۳، ص۴۰۰۔