Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
45 - 831
 طاری ہوا جو اس سے قبل کبھی نہ ہوا تھا۔اس دن خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے میرا نام ’’فاروق‘‘ رکھ دیا، کیونکہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے سبب سے حق و باطل میں   امتیاز فرمادیا۔(1)
فاروق کا لقب کس نے دیا؟
حضرت سیِّدُنا ابو عمرو وذکوان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے پوچھا: ’’مَنْ سَمَّی عُمَرَ الْفَارُوْقَ؟ یعنی حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو فاروق کا لقب کس نے دیا؟‘‘ فرمایا: ’’اَلنَّبِیُّ یعنی غیب کی خبریں   دینے والے (نبی )نے۔‘‘(2)
حق وباطل میں   فرق کرنے کے سبب ’’فاروق‘‘:
حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کے مابین جھگڑا ہوگیا۔ یہودی نے کہا:’’ فیصلے کے لیے تمہارے نبی محمد بن عبداللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس چلتے ہیں  ۔‘‘ منافق بولا: ’’نہیں   بلکہ یہودیوں   کے سردار کعب بن اشرف کے پاس جانا چاہیے۔‘‘یہود ی نے یہ بات نہ مانی اور حضور نبی ٔکریم، رَ ء ٌ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس چلا آیا اور بارگاہِ رسالت میں   پہنچ کر سارا ماجرا بیان کردیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہودی کے حق میں   فیصلہ کردیا۔جب دونوں   باہر آئے تو منافق کہنے لگا:’’ عمر بن خطاب کے پاس چلتے ہیں  ۔‘‘دونوں   سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   پہنچ گئے اور سارا ماجرا بیان کردیا اور یہودی نے یہ بھی وضاحت کردی کہ ہمارے اس جھگڑے کا فیصلہ آپ کے نبی محمد بن عبد اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے حق میں   کردیا ہےاور اس فیصلے کے بعد یہ شخص آپ کے پاس آنے پر اصرار کرنے لگا تو ہم یہاں   آگئے ۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب یہ سارا معاملہ سنا تو ارشاد فرمایا: ’’تم دونوں   ذرا یہیں   ٹھہرو، میں   ابھی آتا ہوں  ۔‘‘ آپ اندرتشریف لے گئے اور تلوار نیام سے باہر نکالتے ہوئے واپس آئے اورفورا اس منافق کا سر تن سے جدا کردیااور ساتھ ہی ارشاد فرمایا: ’’ھٰکَذَا اَقْضِیْ بَیْنَ مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَضَاءِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ یعنی جو 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیۃ الاولیاء، عمر بن الخطاب، ج۱، ص۷۵، الرقم: ۹۳۔
2…اسد الغابۃ، عمر بن الخطاب، ج۴، ص۱۶۲۔