Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
449 - 831
قریب کے گھروں   کو خرید کر انہیں   مسجد میں   شامل کردیا اور پھر پوری مسجد کے گرد ایک چھوٹی سی دیوار تعمیر فرمادی جس پر چراغ رکھے جاتے تھے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کا مسجد نبوی کا ادب واحترام:
حضرت سیِّدُنا سائب بن یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   مسجد میں   سویا ہوا تھا مجھے ایک شخص نے کنکر مارا میں   نے (اٹھ کر ) دیکھا تو وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتھے۔ فرمانے لگے: ’’اذْهَبْ فَاْتِنِي بِهَذَيْنِیعنی جائو ان دونوں   مردوں   کو بلا لائو۔‘‘ میں   گیا اور انہیں   بلا لایا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے فرمایا: ’’مَنْ اَنْتُمَا اَوْ مِنْ اَيْنَ اَنْتُمَایعنی تم کون ہو اور کہاں   سے آئے ہو؟‘‘ بولے: ’’ہمارا تعلق طائف سے ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’لَوْ كُنْتُمَا مِنْ اَهْلِ الْبَلَدِ لَاَوْجَعْتُكُمَا تَرْفَعَانِ اَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَیعنی اگر تم یہاں   کے رہنے والے ہوتے تو میں   تمہیں   ضرور سزا دیتا۔ تم خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مسجد میں   آوازیں   بلند کررہے ہو؟‘‘(2)
مسجد نبوی کے فرش کو پکا کروادیا:
مسجد نبوی میں   سب سے پہلے پتھر بچھانے والے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں   کہ مسجد نبوی کا فرش کچا تھا، لوگ جب سجدے سے سر اٹھاتے تو مٹی کی وجہ سے اپنے ہاتھوں   کو جھاڑتے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسجدکا فرش پکا کرنے کے لیے ریتی بچھانے کا حکم دیا چنانچہ مقامِ عُقَیق سے بجری لائی گئی اور مسجد نبوی میں   بچھا کر اس کے فرش کو پکا کردیا گیا۔‘‘(3)
مساجد کو آباد کرنے کا خصوصی اہتمام:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے دورِ خلافت میں   مساجد کو آباد کرنے کے لیے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…روح المعانی،  پ۱۷، الحج، تحت الآیۃ: ۲۵ ، ج۱۷، ص۱۸۴۔
2…بخاری، کتاب الصلاۃ، باب رفع الصوت۔۔۔الخ، ج۱، ص۱۷۸، حدیث:۴۷۰۔
3…طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳،ص ۲۱۵۔