Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
448 - 831
خیالوں   میں   ہوں   بس مدینے کی باتیں  
یاالٰہی عَزَّ وَجَلَّ! تجھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، سرکار اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اور شیخ طریقت امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا واسطہ ہمیں   بھی مدینہ منورہ کی حقیقی محبت عطا فرمایا اور مدینہ منورہ میں   اپنی راہ میں   شہادت کی موت نصیب فرما۔					آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رسول اللہ کی مساجد سے محبت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مساجد سے بھی بہت محبت فرمایا کرتے تھے کہ یہ وہ مقدس مقامات ہیں   جہاں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے بارگاہِ رب العزت میں   اپنی جبین نیاز کو جھکایا۔
فاروقِ اعظم نے مسجد حرام کی توسیع کروائی:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مسجد حرام کی توسیع کا اہتمام فرمایا۔ یقیناً جہاں   اس میں   دیگر مسلمانوں   کے لیے نماز سے متعلقہ فوائد موجود ہیں   وہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اس مسجد حرام سے محبت وعقید ت کا بھی اظہار ہوتاہے۔چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک سال عمرہ کرنے کی نیت سے مسجد حرام کا قصد فرمایا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسجد حرام کو وسیع و کشادہ کرنے کا اہتمام فرمایا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم نے مسجد حرام کی بیرونی دیوار تعمیر فرمائی:
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مسجد حرام کی توسیع کے ساتھ ساتھ اس کے لیے دیوار بھی تعمیر فرمائی اور یہ عمل بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا مسجد حرام سے محبت پر دلالت کرتا ہے۔چنانچہ مروی ہے کہ:’’عہدِ رسالت میں   مسجد حرام کی کوئی بیرونی دیوار نہیں   تھی، جب امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  منصب خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ نے مسجد کے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ازالۃ الخفاء، ج۳، ص۲۳۵۔