Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
447 - 831
ہے، اگر سورج کعبۃ اللہ شریف کو دیکھ کر رشک کرتا ہے تو چاند روضہ اقدس کو دیکھ کر رشک کرتاہے۔‘‘
دونوں   بنیں   سجیلی انیلی بنی مگر
جو پی کے پاس ہے وہ سہاگن کنور کی ہے
شرح: ’’کعبۃ اللہ شریف اور روضہ مبارکہ دونوں   دلہنیں   خوبصورتی اورزینت و سجاوٹ میں   اپنی مثال آپ ہیں  ، مگر جو دلہن اپنے خاوند کے پاس ہوتی ہے اسی کو سہاگن کہتے ہیں  ، وہی شہزادے کی زوجہ ہوتی ہے، جس دلہن کو کنور یعنی شہزادہ اپنی راجکماری یعنی شہزادی بنا کر رکھے وہی سہاگن کہلاتی ہے۔‘‘(1)
عاشق اعلی حضرت اور مدینہ منورہ سے محبت:
عاشق اعلی حضرت، امیر اہلسنت ، شیخ طریقت، بانی دعوت اسلامی مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مدینہ منورہ سے محبت کے کیا کہنے!آپ کی حیات مبارکہ کا لمحہ لمحہ مدینہ منورہ وشہنشاہ مدینہ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کا خزینہ ہے۔ آپ کے مریدین، محبین، معتقدین وغیرہ میں   بھی مدینہ منورہ کی ایک خاص محبت دیکھی گئی ہے، ذکر مدینہ ان کے قلوب کو گرما کے رکھ دیتا ہے، کئی مریدین تو مدینہ منورہ کی محبت میں   دیوانے نظر آتے ہیں  ۔امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مناجاتوں  ، نعتوں   اور منقبتوں   کا معطر معطر مدنی گلدستہ ’’وسائل بخشش‘‘ مدینہ منورہ کی محبت والے اشعار سے بھرا ہوا ہے۔ اظہار عشق ومحبت کے لیے صرف ایک کلام کے چند اشعار پیش خدمت ہیں  :
نہ دولت نہ مال و خزینے کی باتیں  
سناؤ ہمیں   بس مدینے کی باتیں  
مدینے کی باتیں   سناؤ کہ ہیں   یہ
مریض محبت کے جینے کی باتیں  
شہا میرا سینہ مدینہ بنادو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…سخن رضا، ص۲۵۳ ۔