ایک گناہ ایک ہی شمار جبکہ مکہ مکرمہ میں اگر ایک نیکی ایک لاکھ ہے تو ایک گناہ بھی ایک لاکھ گناہ کے برابرہے۔
عاشق فاروقِ اعظم اور مدینہ منورہ سے محبت:
عاشق فاروقِ اعظم، اعلی حضرت، امام اہلسنت، عظیم البرکت ،مجدددین وملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے مدینہ منورہ کی حاضری پر ایک نعتیہ کلام لکھا جو آپ کے شہرہ آفاق نعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش‘‘ میں موجود ہے،اس کے دو حصے ہیں :ایک حصے میں علمی انداز میں مدینہ منورہ سے محبت کا اظہار فرمایااور دوسرے حصے میں عشق کے بولوں میں اظہار فرمایا، چند اشعار مع شرح پیش خدمت ہیں :
کعبے کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا
پوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نہضت کدھر کی ہے
شرح: ’’یعنی ہم تو مدینہ منورہ کے عاشق ہیں کہ ہم سے جس نے بھی جاننے کی کوشش کی کہ کہاں کا ارادہ ہے؟ تو ہم نے سب سے یہی کہا کہ مدینہ منورہ جارہے ہیں کعبۃ اللہ شریف کا تو نام تک نہ لیا۔‘‘
کعبہ ہے بے شک انجمن آراء دلہن مگر
ساری بہار دلہنوں دولہا کے گھر کی ہے
شرح: ’’یعنی بے شک کعبۃ اللہ شریف محفل کو حسن وخوبصورتی دینے والی دلہن کی طرح ہے مگر دلہنوں کے گھر کی خوبصورتی سے دولہا کے گھر کی خوبصورتی ہوتی ہے کہ دلہن نے بھی خود جاکر دولہا کے گھر کو خوبصورتی اور زینت دینی ہے دلہن کی حسن زینت بھی دولہا کے لیے ہوتی ہے۔‘‘
کعبہ دلہن ہے تربت اطہر نئی دلہن
یہ رشک آفتاب وہ غیرت قمر کی ہے
شرح: ’’کعبۃ اللہ شریف دلہن کی مثل ہے اور نبیٔ پاک صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مزار پرانوار نئی دلہن کی مثل ہے ، اگر سورج کعبۃ اللہ شریف کی تابانیوں اور سج دھج وچمک دمک کو دیکھتا ہے تو چاند روضہ رسول اللہ کی زیب وزینت کو دیکھتا ہے، اگر کعبۃ اللہ شریف آفتاب کا منظور نظر ہے تو روضہ مبارکہ چاند کا منظور نظر