سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے
گر ان کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
فاروقِ اعظم کی مدینہ منورہ میں موت کی تمنا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدینہ منورہ سے عشق ومحبت اس بات سے بھی اجاگر ہوتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ میں وفات کی دعا فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد گرامی حضرت سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ میں وفات کی یوں دعا کیا کرتے تھے: ’’اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور مجھے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہر میں موت عطا فرما۔‘‘(1)
ایک اہم بات:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ مدینہ منورہ یا مکہ مکرمہ کی افضیلت کا مسئلہ فروعی ہے، لہٰذا دونوں کے قائلین پر کوئی حکم شرعی نہیں ۔ اگر کوئی مکہ مکرمہ کو افضل جانتا ہے تو اس سے بھی نہیں الجھنا چاہیے، اگر کوئی مدینہ منورہ کو افضل کہتا ہے تو اس سے بھی نہیں الجھنا چاہیے۔کیونکہ یہ تو عشق ومحبت کا ایک انداز ہے کہ جو مکہ مکرمہ کو افضل کہتے ہیں وہ بھی دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وجہ سے افضل کہتے ہیں اور جو مدینہ منورہ کو افضل کہتے ہیں وہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وجہ سے افضل کہتے ہیں ۔بعض عشاق مکہ مکرمہ کو اس لیے افضل کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جائے پیدائش ہے اور ان کے مقابلے میں دیگر عشاق مدینہ منورہ کو اس لیے افضل کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آخری آرام گاہ ہے۔بعض عشاق مکہ مکرمہ کو اس لیے افضل کہتے ہیں وہاں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے اور ان کے مقابلے میں دیگر عشاق مدینہ منورہ کو اس لیے افضل کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں اگر ایک نیکی کا ثواب پچاس ہزار کے برابر ہے تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، باب کراھیۃ النبی۔۔۔الخ، ج۱، ص۶۲۲، حدیث:۱۸۹۰۔