Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
444 - 831
خانہ خداو حرمِ خدا ۔‘‘ فرمایا : ’’میں   خانہ خداوحرمِ خدا میں   کچھ نہیں   کہتا ، کیا تم کہتے ہو کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے؟‘‘ (1)
وہ وہی کہتے رہے اور امیر المؤمنین ( حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)یہی فرماتے رہے اور یہی میرا (یعنی اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا) مسلک ہے (کہ مدینہ افضل ہے) صحیح حدیث میں   ہے نبی (کریم رَؤفٌ رَّحیم) صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں   :’’اَلْمَدِیْنَۃُ خَیْرٌ لَّھُمْ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْ نَ یعنی مدینہ اُن کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانیں  ۔‘‘ (2)
دوسری حدیث نصِ صریح ہے کہ فرمایا: ’’اَلْمَدِیْنَۃُ خَیْرٌ مِّنْ مَّکَّۃَیعنی مدینہ مکہ سے افضل ہے۔ ‘‘(3)
ثواب میں   فرق کیوں  ؟
اور تَفَاوُتِ ثَوَاب (یعنی ثواب میں   فرق) کا جواب با صواب (یعنی درست جواب)شیخ محقق (شاہ )عبد الحق (محدث) دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کیا خوب دیا کہ: ’’مکہ میں   کمیت زیادہ ہے اور مدینہ میں   کیفیت (تاریخ مدینۃ اردو ترجمہ ’’جذب القلوب، ص۱۹)یعنی وہاں  ’’ مقدار‘‘ زیادہ ہے اور یہاں  ’’ قدر‘‘ اَفْزُوں   (یعنی زیادہ)۔ جسے یوں   سمجھیں   کہ لاکھ روپیہ زیادہ کہ پچاس ہزار اشرفیاں   ؟ گنتی میں   وہ (یعنی لاکھ روپے) دونے ہیں   او رمالیت میں   یہ (یعنی پچاس ہزار اشرفیاں  ) دس گُنی ۔ مکہ معظمہ میں   جس طر ح ایک نیکی لاکھ نیکیاں   ہیں   یوں   ہی ایک گناہ لاکھ گناہ ہیں   اوروہاں   گناہ کے اِرادے پر بھی گرفت ہے جس طر ح نیکی کے اِرادے پر ثواب ۔ مدینہ طیبہ میں   نیکی کے اِرادے پر ثواب اور گناہ کے اِرادے پر کچھ نہیں   اور گناہ کرے توایک ہی گناہ اور نیکی کرے تو پچاس ہزار نیکیاں   ۔ عجب نہیں   کہ حدیث میں  ’’خَیْرٌ لَّھُمْ ‘‘کا اِشارہ اِسی طر ف ہو کہ ان کے حق میں   مدینہ ہی بہتر ہے۔(4)
طیبہ نہ سہی افضل مکہ ہی بڑا زاہد
ہم عشق کے بندے ہیں   کیوں   بات بڑھائی ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مؤطاامام مالک، کتاب الجامع ، باب ما جاء فی امر المدینۃ، ج۲، ص۳۹۶، حدیث:۱۷۰۰۔
2…بخاری،کتاب فضا ئل المدینۃ، باب من رغب عن المدینۃ، ج۱، ص۶۱۸، حدیث:۱۸۷ملتقطا۔
3…معجم کبیر،عمرۃ بنت عبد الرحمن عن رافع، ج۴، ص۲۸۸، حدیث:۴۴۵۰۔
4…ملفوظات اعلی حضرت، ص۲۳۸۔