Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
443 - 831
شہر کی قسم کھانے سے مراد یہی ہے کہ اس خاکِ پاکی قسم اٹھائی ہے کیونکہ شہر سے مراد وہ زمین اور جگہ ہے جہاں   حضور پاؤں   رکھ کر چلتے ہیں  ، بظاہر یہ الفاظ سخت معلوم ہوتے ہیں   کہ باری تعالی حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کے خاکِ پاکی قسم اٹھائے، لیکن اگر اس کی حقیقت کو دیکھا جائے تو اس میں   کوئی پوشیدگی وغبار نہیں   وہ اس طرح کہ اللہ تعالٰی جب اپنی ذات وصفات کے علاوہ کسی شے کی قسم اٹھاتا ہے تو وہ اس لئے نہیں   ہوتی کہ وہ شے (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ) اللہ تعالٰیسے عظیم ہے، بلکہ حکمت یہ ہوتی ہے کہ اس چیز کو وہ شرف وعظمت نصیب ہوجائے جس کی وجہ سے عام لوگوں   پر اس کا امتیاز قائم ہو اور لوگ محسوس کریں   کہ یہ شے بنسبت دوسری چیزوں   کے نہایت عظیم ہے نہ کہ وہ مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ بنسبت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عظیم ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی مدینہ منورہ سے محبت:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجس طرح مکہ مکرمہ سے محبت فرماتے تھے بعینہ ویسے ہی مدینہ منورہ سے بھی محبت فرماتے تھے، بلکہ نہ صرف محبت فرماتے بلکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ کی افضلیت کے بھی قائل تھے۔اور یقیناً یہ محبت وافضیلت اسی وجہ سے تھی کہ یہ شہرِ محبوب اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے۔ چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ ۵۳۹صفحات پر مشتمل کتاب ’’ملفوظات اعلی حضرت‘‘ (مکمل چار حصے)ص۲۳۶ سے دو اقتباس پیش خدمت ہیں  :
عرض: ’’حضور! مدینہ طیبہ میں   ایک نماز پچاس ہزار کا ثواب رکھتی ہے اور مکہ معظمہ میں   ایک لاکھ کا ،اِس سے مکہ معظمہ کا افضل ہونا سمجھا جاتا ہے ؟‘‘
ارشاد :جمہور حنفیہ کایہ ہی مسلک ہے اور سیِّدُنا ا مام مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نزدیک مدینہ افضل اور یہی مذہب امیر المؤمنین (حضرت سیِّدُنا عمر)فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہے ۔ ایک صحابی (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے کہا: ’’مکہ معظمہ افضل ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ کیا تم کہتے ہو کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے؟‘‘ انہوں   نے کہا: ’’وَاللہِ بَیْتُ اللہِ وَحَرَمُ اللہِ‘‘ فرمایا: ’’میں   بَیْتُ اللہ اور حَرَمُ اللہ میں   کچھ نہیں   کہتا ، کیا تم کہتے ہو کہ مکہ مدینہ سے افضل ہے؟‘‘ انہوں   نے کہا: ’’ بخدا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مدارج النبوۃ، ج۱، ص۶۵۔