Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
442 - 831
عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ یَارَسُوْلَ اللہِ لَقَدْ بَلَغَ مِنْ فَضِیْلَتِکَ عِنْدَاللہِ اَنْ اَقْسَمَ بِحَیَاتِکَ دُوْنَ سَائِرِ الْاَنْبِیَاءِ وَلْقَدْ بَلَغَ مِنْ فَضِیْلَتِکَ عِنْدَہُ اَنْ اَقْسَمَ بِتُرَابِ قَدَمَیْکَ فَقَالَ لَااُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِیعنی ہر حال میں   یہ نبی ٔاکرم، نور مجسم ،شاہ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہر کی قسم کو شامل ہے اور اس قسم میں   جو تعظیم ومرتبے کی زیادتی ہے وہ کسی پر مخفی نہیں  ،امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جناب میں   یوں   عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے ماں   باپ آپ پر فدا ہوں  ! آپ کی فضیلت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   اتنی بلند ہے کہ آپ کی حیاتِ مبارکہ کی ہی اس نے قسم ذکر فرمائی ہے نہ کہ دوسرے انبیاء کی، اور آپ کا مقام ومرتبہ اس کے ہاں   اتنا بلند ہے کہ اس نےلَااُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِکے ذریعے آپ کے مبارک قدموں   کی خاک کی قسم ذکر فرمائی ہے۔ ‘‘(1)
ایک لطیف نکتہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمکہ مکرمہ سے اس لیے بھی محبت فرماتے ہیں   کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے محبوب آقا محمد مصطفےٰ، احمد مجتبےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس شہر میں   تشریف فرما ہیں  ، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ محبت اور عشق حقیقی قرآن پاک کا عملی نمونہ ہے خود رب عَزَّ وَجَلَّ بھی شہر مکہ کی قسم کو اس لیے ذکر فرما رہا ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اس میں   تشریف فرما ہیں  ۔ یہاں   ایک لطیف نکتہ قابل ذکر ہے کہ عموماً جب کوئی قسم اٹھاتا ہے تو کسی معظم دینی کی اٹھاتا ہے جو اس سے افضل ہوتاہے تاکہ اس سے اس کی بات کو تائید وتاکید حاصل ہوجائے ۔لیکن جب رب عَزَّ وَجَلَّ کسی شے کی قسم ذکر فرمائے تو اس میں   یہ حکمت ہوتی ہے کہ اس شے کو عظمت وشرف نصیب ہوجائے۔ چنانچہ اعلی حضرت، عظیم البرکت، مجدد دین وملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ ، ج۵، صفحہ۵۵۸میں   مولانا شاہ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے حوالے سے اسی آیت مبارکہ کی تفسیر میں   نقل فرماتے ہیں  : ’’یعنی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… شرح زرقانی علی المواھب ،الفصل الخامس۔۔۔ الخ ، ج۸، ص۴۹۳۔