قسم یاد فرما رہاہے وہ مکہ مکرمہ ہے۔اسی آیت مبارکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جناب میں یوں عرض گزار ہوئے: ’’بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ یَارَسُوْلَ اللہِ لَقَدْ بَلَغَ مِنْ فَضِیْلَتِکَ عِنْدَاللہِ اَنْ اَقْسَمَ بِحَیَاتِکَ دُوْنَ سَائِرِ الْاَنْبِیَاءِ وَلَقَدْ بَلَغَ مِنْ فَضِیْلَتِکَ عِنْدَہُ اَنْ اَقْسَمَ بِتُرَابِ قَدَمَیْکَ فَقَالَ لَااُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ! آپ کی فضیلت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں اتنی بلند ہے کہ آپ کی حیاتِ مبارکہ کی ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےقسم ذکر فرمائی ہے نہ کہ دوسرے انبیاء کی، اور آپ کا مقام ومرتبہ اس کے ہاں اتنا بلند ہے کہ اس نےلَااُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِکے ذریعے آپ کے مبارک قدموں کی خاک کی قسم ذکر فرمائی ہے۔‘‘(1)
حضرت علامہ شہاب الدین محمد بن عمر خفاجی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ’’نسیم الریاض شرح شفا‘‘ میں فرماتےہیں : ’’قَدْ قَالُوْا اِنَّ ھٰذَا الْقَسْمَ اَدْخَلَ فِیْ تَعْظِیْمِہٖ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقَسْمِ بِذَاتِہٖ وَ بِحَیَاتِہٖ کَمَااَشَارَ اِلَیْہِ عُمَرُرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بِقَوْلِہٖ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ یَارَسُوْلَ اللہِ قَدْبَلَغْتَ مِنَ الفَضِیْلَۃِ عِنْدَہُ اَنْ اَقْسَمَ بِتُرَابِ قَدَمَیْکَ فَقَالَ: لَاُاقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِیعنی مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہر کی قسم، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات اور عمر کی قسم سے زیادہ تعظیم پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اس کی طرف امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان الفاظ کے ساتھ اشارہ فرمایاکہ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے والدین آپ پر فدا ہوں ! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں اتنے بلند مرتبے والے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک قدموں کی قسم ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: لَااُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ یعنی میں اس شہر مکہ کی قسم ذکر کرتا ہوں ۔‘‘(2)
علامہ شہاب الدین احمدبن محمد قسطلانی ’’مواہب اللدنیہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’عَلٰی کُلِّ حَالٍ فَھٰذَا مُتَضَمِّنٌ لِلْقَسَمِ بِبَلَدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَایَخْفٰی مَافِیْہِ مِنْ زِیَادَۃِ التَّعْظِیْمِ وَقَدْرُوِیَ اَنَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… شرح زرقانی علی المواھب ،الفصل الخامس۔۔۔ الخ ، ج۸، ص۴۹۳، فتاویٰ رضویہ، ج۵، ص۵۵۶۔
2… نسیم الریاض ، الباب الاول، الفصل الرابع فی قسمہ تعالی،ج۱، ص۳۱۷۔