رسول اللہ کے منسوبات سے محبت
فاروقِ اعظم عاشق حقیقی تھے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ محبت کی اس منزل پر فائزتھے جسے عشق کہا جاتاہے۔ کیونکہ جب محبت انتہاء کو پہنچ جائے تو اُسے عشق کہا جاتاہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علی بن عبد الرحمن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عشق اور محبت کے درمیان فرق پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا:’’اَلْحُبُّ لَذَّةٌ تُعْمِيْ عَنْ رُؤْيَةِ غَيْرِ الْمَحْبُوْبِ فَاِذَا تَنَاهِيْ سُمِّيَ عِشْقًایعنی محبت وہ لذت ہے جو محبوب کے علاوہ کسی کوبھی دیکھنے سے اندھا کردیتی ہے اورمحبت کی انتہاء کو عشق کہتے ہیں ۔‘‘(1)
حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’حُبَّکَ الشَّیْءَ یُعْمِیْ وَیَصُمُّ یعنی کسی شے کی محبت تجھے اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔‘‘(2)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عشق رسول کے کیا کہنے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات سے محبت، اولاد سے محبت، ازواج سے محبت، اصحاب سے محبت بلکہ ہر وہ چیز جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نسبت ہوجائے اس سے بھی محبت فرماتے تھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرت طیبہ کے بے شمار ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے اِس عشق حقیقی کا والہانہ اظہار ہوتا ہے ، چند واقعات ملاحظہ کیجئے:
محبوب کے شہر سے محبت
فاروقِ اعظم کی مکہ مکرمہ سے محبت:
قرآن پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: (لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱)وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۲)) (پ۳۰، البلد:۱ تا۲) ترجمۂ کنزالایمان: ’’مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مفسرین کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس آیت مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس شہر کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، فی محبۃ اللہ عزوجل، معانی المحبۃ، ج۱، ص۳۷۹، حدیث:۴۵۷۔
2…شعب الایمان ، فی محبۃ اللہ عزوجل، معانی المحبۃ، ج۱، ص۳۶۸، حدیث:۴۱۲۔