مجھ سے تین روز قبل اِسلام لائے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرا سینہ اِسلام کے لیے کھول دیا اور میں بے ساختہ پکار اُٹھا: ’’اَللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے ہیں سب اچھے نام۔‘‘ اس وقت ساری روئے زمین پر حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بڑھ کر کوئی شخصیت میرے لیے محبوب نہ تھی۔میں نے پوچھا:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہاں تشریف فرماہیں ؟‘‘ میری ہمشیرہ نے کہا:’’ دارِ اَرقم بن ابی اَرقم میں جو صفا پہاڑ ی کے نزدیک ہے۔‘‘ حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان گھر کے اندرصحن میں اور دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے کمرے میں تشریف فرما تھے۔میں نے دروازہ پر دستک دی تو میری آمد پر سب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اکٹھے ہوگئے۔حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بولے :’’کیا بات ہے؟‘‘ وہ کہنے لگے:’’ عمر آگیا ہے۔‘‘یہ سن کر خود خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باہر تشریف لے آئےاور جیسے ہی میں اندر داخل ہوا میرا گریبان پکڑا اور زور سے جھنجھوڑ کر فرمایا: ’’عمر !تم باز نہیں آئو گے تو میں بے ساختہ پکار اُٹھا:’’اَشْھَدُاَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔‘‘ یہ سن کر دارِ اَرقم سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ اس کی آواز کعبۃ اللہ شریف میں سنی گئی۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا حیات اور موت دونوں صورتوں میں ہم حق پر نہیں ؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’کیوں نہیں ، اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! تم لوگ حق پر ہو ، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔‘‘ میں نے عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! پھر ہم چھپ چھپ کر کیوں رہ رہے ہیں ؟ اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہم ضرور باہر نکلیں گے۔‘‘ چنانچہ ہم دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس طرح باہر لے آئے کہ ہماری دو صفیں تھیں ، اگلی صف میں حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور پچھلی صف میں مَیں تھااور میری حالت یہ تھی کہ میرے اوپر آٹے جیسا غبار تھا۔ ہم مسجدِ حرام میں داخل ہوئے تو کفار قریش نے ایک نظر مجھے اور دوسری نظر حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا تو ان پر ایسا خوف