Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
438 - 831
سارا علم آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی گود میں   سما جائے۔‘‘(1)	
رب کے معاملے میں   ملامت کرنے والےسے بے خوف:
حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  : ’’وَ اللہِ مَا اَعْرِفُ رَجُلًا لَا تَاْخُذُهُ فِي اللہِ لَوْمَةُ لَائِمٍ اِلَّا عُمَرَیعنی    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں   جانتا جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں   کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے قطعاً خوفزدہ نہ ہو۔‘‘(2)
شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا امیر معاویہ
فاروقِ اعظم نے دنیا کو دھتکار دیا:
حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ بن ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   فرماتےہیں   : ’’اَمَّا اَبُوْ بَكْرٍ فَلَمْ يَرُدُّ الدُّنْيَا وَلَمْ تَرُدَّهُ وَاَمَّا عُمَرُ فَاَرَادَتْهُ وَلَمْ يَرُدَّهَا وَاَمَّانَحْنُ فَتَمَرَّغْنَا فِيْهَا ظَهْراً لِبَطَنٍیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نہ تو دنیا کا ارادہ فرمایا اور نہ ہی دنیا نے آپ کا ارادہ کیا۔لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا دنیا نے تو ارادہ کیا لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاسے دھتکار دیا اور ہم تودنیا میں   پیٹ کی خاطر پشت تک لت پت ہوچکے ہیں  ۔‘‘(3)
نہیں   خوش بخت محتاجان عالم میں   کوئی ہم سا
ملا تقدیر سے حاجت روا فاروقِ اعظم سا
مراد آئی مرادیں   ملنے کی پیاری گھڑی آئی
ملا حاجت روا ہم کو در سلطان عالم سا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
 مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…تاریخ الخلفاء، ص۹۵، تاریخ ابن عساکر،  ج۴۴، ص۲۸۵۔
2…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۳۳۲، تاریخ الاسلام ، ج۳، ص۲۷۱، تاریخ الخلفاء، ص۹۵۔
3…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۲۸۷،  تاریخ الاسلام ، ج۳، ص۲۶۷۔