Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
437 - 831
یعنی آج اسلام کمزور ہوگیا۔‘‘(1)
شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُناعبد اللہ بن عمر
فاروقِ اعظم ہمیشہ اچھائی پر قائم رہے:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’مَا زَالَ عُمَرُ جَادًّا جَوَّادًا مِنْ حِيْنِ قُبِضَ حَتَّى اِنْتَهَىیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمیشہ اچھی بات ، اچھے کام اور سخاوت کرتے رہے یہاں   تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دنیا سے تشریف لے گئے۔‘‘(2)
شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا حذیفہ 
حیات فاروقِ اعظم میں   اسلام بہادر مرد کی مثل ہوگیا:
حضرت سیِّدُنا ربعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ فرماتے سنا : ’’مَا كَانَ الْاِسْلاَمُ فِيْ زَمَانِ عُمَرَ الاَّ كَالرَّجُلِ الْمُقْبِلِ مَا يَزْدَادُ اِلَّا قُرْبًا فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ كَانَ كَالرَّجُلِ الْمُدْبِرِ مَا يَزْدَادُ اِلَّابُعْدًایعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے زمانے میں   گویا اسلام اس مرد کی طرح ہوگیا جو چھاتی تان کے آگے ہی آگے بڑھتا جاتاہے اور جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کردیا گیا تو اسلام گویا اس شخص کی طرح ہوگیا جو پیٹھ پھیر کر پیچھے ہی پیچھے جاتا ہے۔‘‘(3)
لوگوں   کا علم فاروقِ اعظم کی گود میں   آجائے:
حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  : ’’كَاَنَّ عِلْمَ النَّاسِ كَانَ مَدْسُوْساً فِيْ حُجْرِ عُمَرَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے علم کے مقابلے میں   لوگوں   کا علم اتنا ہے کہ وہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۷۹، حدیث:۱۱۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۲، حدیث:۳۱۔
3…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۶، حدیث:۵۴۔