اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں نے ایک خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا تو ان لوگوں نے حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کااس عورت سے نکاح کردیا اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو چھوڑ دیا یا ان کو جواب دے دیا۔‘‘ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس بات کا علم ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’لَقَدْ تَرَكُوا اَوْ رَدُّوا خَيْرَ هَذِهِ الاُمَّةِیعنی ان لوگوں نے اس امت کے سب سے بہترین مرد کو چھوڑ دیا یا جواب دے دیا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم تین باتوں میں سب پر سبقت لے گئے:
حضرت سیِّدُنا یونس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر کیا کرتے تو کہا کرتے : ’’وَاللہِ مَا كَانَ بِاَوَّلِهِمْ اِسْلاَمًا وَلاَ اَفْضَلِهِمْ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللہِ وَلَكِنَّهُ غَلَبَ النَّاسَ بِالزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا وَالصَّرَامَةِ فِي اَمْرِ اللہِ وَلاَ يَخَافُ فِي اللہِ لَوْمَةَ لاَئِمٍیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر چہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے پہلے اسلام نہ لائے اور نہ ہی اسلام پر سب سے زیادہ خرچ کیا لیکن وہ ان تین باتوں ’’دنیا کے معاملے میں کنارہ کشی‘‘، ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں جلدی کرنے‘‘ اور ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بے خوف ہونے‘‘ میں تمام لوگوں پر سبقت لے گئے۔‘‘(2)
شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا سعد
فاروقِ اعظم دنیا سے کنارہ کشی میں سبقت لے گئے:
حضرت سیِّدُنا ابو سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’اَمَا وَاللہِ مَا كَانَ بِاَقْدَمِنَا اِسْلاَمًا وَلَكِنْ قَدْ عَرَفْت بِاَيِّ شَيْءٍ فَضَلَنَا كَانَ اَزْهَدَنَا فِي الدُّنْيَا يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے پہلے اسلام نہیں لائے لیکن ایک شے ایسی ہے وہ اس میں ہم سب سے سبقت لے گئے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیا سے کنارہ کشی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۴، حدیث:۴۲۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۷۵، حدیث:۴۳۔