Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
434 - 831
شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا طلحہ
فاروقِ اعظم کی وفات کے سبب نقص داخل ہوگیا:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جس روز امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا تو حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’مَا اَهْلُ بَيْتٍ حَاضِرٍ وَلا بَادٍ اِلَّا وَقَدْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ نَقْصٌیعنی شہری یا دیہاتی گھروں   میں   سے کوئی گھر ایسا نہیں   ہے جہاں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کے سبب نقص داخل نہ ہوا ہو۔‘‘(1)
شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا ابو عثمان
میزان فاروق میں   بال برابر بھی جھکاؤ نہ ہوتا:
حضرت سیِّدُنا عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ میں   ایک لاٹھی تھی جس پر آپ سہارا لے کر چلا کرتے تھے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اکثر فرمایا کرتے تھے: ’’وَاللہِ لَوْ اَشَاءُ اَنْ تَنْطِقَ قَنَاتِي هَذِهٖ لَنَطَقَتْ  لَوْ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِيزَانًا مَا كَانَ فِيهِ مِيطُ شَعْرَةٍیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر میں   یہ چاہوں   کہ میری یہ لاٹھی بھی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان بیان کرے تو وہ ضرور بیان کرے گی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اگر میزان ہوتے تو اس میں   بال برابر بھی جھکاؤ نہ ہوتا۔‘‘(2)
شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا حسن
اس امت کے سب سے بہترین مرد کو چھوڑ دیا:
حضرت سیِّدُنا معتبر بن سلیمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ فرماتے سنا: ’’خَطَبَ عُمَرُ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ امْرَاَةً  فَاَنْكَحُوا الْمُغِيرَةَ وَتَرَكُوا عُمَرَ اَوْ قَالَ  رَدُّوا عُمَرَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وحضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۰، حدیث:۱۸۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۴، حدیث:۴۱۔