سُوءٍ اِنَّ عُمَرَ كَانَ اَعْلَمَنَا بِاللّٰہِ وَاَقْرَاَنَا لِكِتَابِ اللہِ وَاَفْقَهَنَا فِي دِينِ اللہِیعنی میں اس گھر والوں کو بہت برا سمجھتا ہوں جنہیں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کے دن ان کی وفات کا صدمہ نہ پہنچا۔ بے شک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہم میں سب سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والے، کتاب اللہ کے سب سےبڑے قاری اور دین الٰہی کے سب سے بڑے فقیہہ تھے۔‘‘(1)
جیسا فاروقِ اعظم نے قرآن پڑھایا ویسا پڑھو:
حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں دو شخص حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: ’’ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ یعنی ہمارا ایک آیت کی قراءت پر جھگڑا ہوگیا ہے یہ ارشاد فرمائیے کہ آپ اس آیت کو کیسے پڑھیں گے؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک سے پوچھا: ’’ مَنْ اَقْرَاَكَ ؟ یعنی تم یہ بتاؤ تمہیں قرآن کس نے پڑھایا ہے؟‘‘اس نے عرض کیا: ’’حضرت سیِّدُنا ابوحکیم مزنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے۔‘‘ پھر آپ نے دوسرے سے پوچھا: ’’مَنْ اَقْرَاَکَ ؟ یعنی تمہیں قرآن کس نے پڑھایا ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: ’’ اَقْرَاَنِي عُمَرُ یعنی مجھے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآن پڑھایا ہے۔‘‘حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’ اِقْرَاْ كَمَا اَقْرَاَك عُمَرُ یعنی تم دونوں ویسے ہی پڑھو جیسا حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے پڑھایا ہے۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زاروقطار رونے لگے اور اتنا روئے کہ آپ کے آنسو چٹائی پر گرنے لگے۔پھر ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ عُمَرَ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا عَلَى الاسْلامِ يَدْخُلُ فِيهِ وَلا يَخْرُجُ مِنْهُ فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ اِنْثَلَمَ الْحِصْنُ فَهُوَ يَخْرُجُ مِنْهُ وَلا يَدْخُلُ فِيهِیعنی بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے، جس میں کوئی داخل تو ہوسکتا تھا لیکن اس میں کوئی نکل نہ سکتا تھا، پس آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جب وصال ہوگیا تو وہ قلعہ منہدم ہوگیا اب اس سے کوئی نکل تو سکتا ہے داخل نہیں ہوسکتا۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۰، حدیث:۲۱۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۴، حدیث:۴۰۔