Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
432 - 831
 گفتگو کرنا چاہتے تھے تو آپ کو دو تین مرتبہ شدید کھانسی آئی۔ پھر ارشاد فرمایا: ’’ اِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ حِصْناً حَصِيْناً لِلْاِسْلَامِ يَدْخُلُ فِيْهِ وَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ فَانْهُدِمَ الْحِصْنُیعنی بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے کہ اس میں   کوئی داخل تو ہو سکتا تھا لیکن نکل نہیں   سکتا تھا۔ آہ! اس قلعے کو شہید کردیا گیا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا:
حضرت سیِّدُنا زررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’لَقِيَ رَجُلٌ شَيْطَانًا فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَاتَّخَذَا فَصَرَّعَ الشَّيْطَانَ یعنی مدینہ منورہ کی گلیوں   میں   ایک شخص کی شیطان سے ملاقات ہوگئی، دونوں   آپس میں   گتھم گتھا ہوگئے تو اس شخص نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا۔‘‘لوگوں   نے پوچھا :’’حضور وہ کون شخص تھا جس نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا؟‘‘فرمایا: ’’مَنْ یُطِیْقُ بِہٖ   اِلَّاعُمَرَیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سوا کس میں   اتنی طاقت ہے؟‘‘(2)
کتنے برے ہیں   اُس گھر والے۔۔۔:
حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ اِنَّ اَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الْعَرَبِ لَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ مُصِيبَةُ عُمَرَلَاَهْلُ بَيْتِ سُوءٍیعنی بے شک عرب کے وہ رہائشی بہت برےہیں   کہ جنہیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وفات کا صدمہ نہ پہنچا۔‘‘(3)
فاروقِ اعظم کی وفات کا صدمہ:
حضرت سیِّدُنا زید بن وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’مَا اَظُنُّ اَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ حُزْنُ عُمَرَ يَوْمَ اُصِيبَ عُمَرُ إلاَّ اَهْلَ بَيْتِ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…معجم کبیر، باب العین، من اسمہ عبد اللہ، ج۹، ص۱۷۰، حدیث:۸۸۴۴۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۷۹، حدیث:۱۲۔
3…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۰، حدیث:۱۷۔