ہیں : ’’اِنَّ كَانَ اِسْلَامُ عُمَرَ لَفَتْحاً وَاِمَارَتُهُ لَرَحْمَةً وَاللہِ مَا اسْتَطَعْنَا اَنْ نُّصَلِّيَ بِالْبَيْتِ حَتّٰى اَسْلَمَ عُمَرُ فَلَمَّا اَسْلَمَ عُمَرُ قَابَلَهُمْ حَتّٰى دَعَوْنَا فَصَلَّيْنَایعنی بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا قبولِ اسلام مسلمانوں کے لیے فتح اور ان کی خلافت مسلمانوں کے لیے رحمت تھی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم آپ کے قبول اسلام سے قبل ہم کعبۃ اللہ شریف میں نماز پڑھنے کی جرأت نہیں کرتے تھے، لیکن جیسے ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے قبول اسلام کیا تو آپ نے کفار کا سامناکیا یہاں تک کہ ہم نے کعبۃ اللہ شریف میں نماز ادا کی۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کے قبول اسلام سے ہم عزت دار ہوگئے:
حضرت سیِّدُنا قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’ مَا زِلْنَا اَعِزَّةً مُنْذُ اَسْلَمَ عُمَرُ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قبول اسلام سے ہم عزت دار ہوگئے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم کی آہٹ سے شیطان بھاگتاہے:
حضرت سیِّدُنا قاسم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’اِنِّيْ لَاَحْسِبُ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنْ حِسِّ عُمَرَیعنی بے شک مجھے یقین ہے کہ شیطان امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی آہٹ سے بھاگ جا تا ہے۔‘‘(3)
فاروقِ اعظم کی فرشتہ رہنمائی کرتاہے:
حضرت سیِّدُنا ابو وائلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ مَا رَاَيْتُ عُمَرَ اِلاَّ وَكَاَنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُیعنی میں نے دیکھا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دونوں آنکھوں کے مابین ایک فرشتہ ہے جو ان کی راہنمائی کرتا ہے۔‘‘(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معجم کبیر، باب العین، من اسمہ عبد اللہ ، ج۹، ص۱۶۵، حدیث:۸۸۲۰۔
2…بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۲۶، حدیث: ۳۶۸۴۔
3…معجم کبیر، باب العین،من اسمہ عبد اللہ، ج۹، ص۱۶۶، حدیث:۸۸۲۵۔
4…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۰، حدیث:۱۶۔