’’بعض علماء نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو کُتّا یا گدھا یا سور کہنا بھی اسی میں داخل ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ القاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو لیکن تعریف کے القاب جو سچّے ہوں ممنوع نہیں جیسے کہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر کا لقب ’’عتیق‘‘ اور حضرت سیِّدُنا عمرکا ’’فاروق‘‘ اور حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی کا ’’ذوالنورین‘‘ اور حضرت سیِّدُنا علی کا ’’ابوتراب‘‘ اور حضرت سیِّدُنا خالد کا ’’سیف اللہ‘‘رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور جو القاب بمنزلۂِ عَلم ہوگئے (یعنی نام کی جگہ لے لی) اور صاحبِ القاب کو ناگوار نہیں وہ القاب بھی ممنوع نہیں جیسے کہ اعمش ، اعرج ۔‘‘
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بھی کئی القابات ہیں ۔بعض القابات تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خاص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ سے عطا ہوئے اور کئی ایسے القابات ہیں جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کی مخصوص صفات کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ’’فاروقِ اعظم ‘‘کے نو حروف کی نسبت سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے11القابات مع وجوہات پیش خدمت ہیں :
(1)…لقب ’’فاروق‘‘ اور اس کی وجوہات
’’فاروق‘‘ لقب اللہ نے عطا فرمایا:
حضرت سیِّدُنا نزال بن سبرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے عرض کیا :’’اےامیر المومنین ! ہمیں سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ’’فاروق‘‘ لقب عطا فرمایا کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حق کو باطل سے جدا کردکھایا۔‘‘(1)
’’فاروق‘‘ لقب بارگاہِ رسالت سے عطا ہوا:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا کہ’’ آپ کو فاروق کیوں کہا جاتا ہے؟‘‘ اِرشاد فرمایا:’’ حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر،ج۴۴،ص۵۰۔