فاروقِ اعظم کی خلافت رحمت ہے:
حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مختلف صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
٭…’’لَقَدْ اَحْبَبْتُ عُمَرَ حَتّٰى لَقَدْ خِفْتُ اللہَیعنی میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے محبت کی تو مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف نصیب ہوگیا۔‘‘
٭…’’وَلَوْ اَعْلَمُ اَنَّ كَلْباً يُحِبُّ عُمَرَ لَاَحْبَبْتُهُ اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ فلاں کتا حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے محبت کرتاہے تو ضرور میں اس کتے سے محبت کروں گا۔‘‘
٭…’’وَلَوَدَدْتُّ اَنِّيْ كُنْتُ خَادِماً لِعُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ اور میری یہ خواہش ہے کہ میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا خادم بن کر رہوں ۔‘‘
٭…’’وَلَقَدْ وَجَدَ فَقْدَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْعُضَاۃُ اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وفات پر آپ کی جدائی کو ہرچیز نے محسوس کیا یہاں تک کہ جسم کے ہر ہر حصے نے آپ کی جدائی محسوس کی۔‘‘
٭…’’وَاِنَّ هِجْرَتَهُ كَانَتْ نَصْراً وَاِنَّ سُلْطَانَهُ وَاِنْ كَانَ رَحْمَةًاور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ہجرت مسلمانوں کی نصرت تھی اور آپ کی خلافت مسلمانوں کے لیےرحمت تھی۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی محبت میں رب کی خشیت مل گئی:
حضرت سیِّدُنا عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’لَقَدْ خَشِيْتُ اللہَ فِيْ حُبِّيْ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُیعنی حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے محبت کرنے کے سبب مجھے رب
عَزَّ وَجَلَّ کی خشیت مل گئی۔‘‘ (2)
فاروقِ اعظم کا اسلام مسلمانوں کی فتح تھی:
حضرت سیِّدُنا عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معجم کبیر، باب العین،من اسمہ عبد اللہ ، ج۹، ص۱۶۴، حدیث:۸۸۱۴۔
2…معجم کبیر، باب العین، من اسمہ عبد اللہ ، ج۹، ص۱۶۴، حدیث:۸۸۱۶۔