٭…’’اِنَّ اِسْلَامَهُ كَانَ نَصْرًا وَاِنَّ اِمَارَتَهُ كَانَتْ فَتْحًا بے شک امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا اسلام لانا مسلمانوں کے لیے ایک عظیم مدد تھا اور ان کی خلافت ایک شاندار فتح تھی۔‘‘
٭…’’وَاَيْمُ اللہِ مَا اَعْلَمُ عَلَى الاَرْضِ شَيْئًا اِلَّا وَقَدْ وَجَدَ فَقْدَ عُمَرَ حَتَّى الْعِضَاهُاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میرے علم میں روئے زمین پر کوئی شے ایسی نہیں ہے جس نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال پر آپ کی جدائی محسوس نہ کی ہو یہاں تک کہ جسم کے ہر ہر حصے نے آپ کی جدائی محسوس کی۔‘‘
٭…’’وَاَيْمُ اللہِ اِنِّي لاَحْسَبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ وَيُرْشِدُهُ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں اس بات کا گمان کرتاہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا جو آپ کیو سیدھی راہ رکھاتا اور رہنمائی کرتا تھا۔‘‘
٭…’’وَاَيْمُ اللہِ اِنِّي لَاَحْسَبُ الشَّيْطَانَ يَفْرَقُ اَنْ يُحْدِثَ فِي الاِسْلاَمِ فَيَرُدَّ عَلَيْهِ عُمَرُ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ شیطان اسلام میں کوئی نئی بات پیدا(یابدعت ایجاد)کرنے سے اس لیے گھبراتاہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس کا رد فرمادیں گے۔‘‘
٭…’’وَاَيْمُ اللہِ لَوْ اَعْلَمُ اَنَّ كَلْبًا يُحِبُّ عُمَرَ لاَحْبَبْتُهاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ فلاں کتا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے محبت کرتا ہے تو میں ضرور اس کتے سے محبت کروں گا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کا علم سب سے وزنی:
حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہےکہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’لَوْ اَنَّ عِلْمَ عُمَرَ وُضِعَ فِيْ كِفَّةِ مِيْزَانٍ وَوُضِعَ عِلْمُ اَهْلِ الْاَرْضِ فِيْ كِفَّةٍ لَرَجَحَ عِلْمُهُ بِعِلْمِهِمْ یعنی اگر میزان کے ایک پلڑے میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا علم رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں پوری دنیا کا علم رکھا جائے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا علم تمام دنیا والوں کے علم سے وزنی ہوگا۔‘‘(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۰، حدیث:۲۲۔
2…معجم کبیر، باب العین، من اسمہ عبد اللہ ، ج۹ ، ص۱۶۳، حدیث:۸۸۰۹۔