شانِ فاروقِ اعظم بزبان سیدتنا عائشہ صدیقہ
جس مجلس میں ذکر عمر ہو وہ مجلس اچھی گفتگو والی ہے:
حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں : ’’اِذِا ذُكِرَ عُمَرُ فِى الْمَجْلِسِ حَسُنَ الْحَدِيْثُ یعنی جب کسی مجلس میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر کیا جائے تو گفتگو میں حسن پیدا ہو جاتا ہے۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کے ذکر سے مجالس کو مزین کرو:
حضرت سیِّدُنا جعفر بن برقان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں : ’’زَيِّنُوْا مَجَالِسَكُمْ بِذِكْرِ عُمَرَ یعنی اپنی مجالس کو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ذکر سے مزین کرو۔ ‘‘(2)
ذکر صالحین کے وقت ذکرعمر ضرور کرو:
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں : ’’اذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلاً بِعُمَرَیعنی جب صالحین یعنی نیک لوگوں کا ذکر ہو تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر ضرور کیا کرو۔ ‘‘(3)
فاروقِ اعظم تمام امور کو تن تنہا انجام دینے والے:
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں : ’’كَانَ وَاللَّهِ اَحْوَذِيًّا نَسِيجَ وَحْدِهِیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۳۸۰۔ کنزالعمال، کتاب الفضائل، فضائل الفاروق، الجزء:۱۲، ج۶، ص۲۶۳، حدیث:۳۵۸۲۲۔
2…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۳۸۰۔
3…مسند امام احمد، مسند السیدۃ عائشۃ، ج۹، ص۴۸۴، حدیث:۲۵۲۰۶۔