Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
425 - 831
بہتر طریقے سے انجام دینے میں   )بہت دور تک سبقت لے گئے اور انہوں   نے اپنے بعد میں   آنے والوں   کو بہت تھکا دیا۔‘‘(1)
شانِ فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُناعبد اللہ بن عباس
فاروقِ اعظم کا ذکر کثرت سے کرو:
حضرت سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے شاگرد رشید حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے استاد محترم یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  : ’’اَكْثِرُوْا ذِكْرَ عُمَرَ فَاِنَّ عُمَرَ اِذَا ذُكِرَ ذُكِرَ الْعَدْلُ وَاِذَا ذُكِرَ الْعَدْلُ ذُكِرَ اللہُیعنی اے لوگو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا کثرت سے ذکر کیا کرو کیونکہ جب ان کا ذکر کیا جائے گا تو ان کے عدل وانصاف کا ذکر ہوگا اور جب عدل وانصاف کا ذکر ہوگا تو رب عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر ہوگا۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم ایک ہوشیار پرندے کی طرح ہیں  :
حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   پوچھا گیا تو فرمایا: ’’كَانَ وَاللہِ خَيْراً كُلَّهُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !وہ تو سراپا خیر ہی خیر تھے۔‘‘اور جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’كَانَ وَاللہِ كَالطَّيْرِ الْحَذَرِ الَّذِيْ يُنْصَبُ لَهُ فِيْ كُلِّ طَرِيْقٍ شَرَكٌ وَكَانَ يَعْمَلُ عَلَى مَا يَرَى مَعَ الْعُنْفِ وَشِدَّةِ النِّشَاطِیعنی   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تو اس پرندے کی طرح ہیں   جسے ہر وقت یہی کھٹکا لگا رہتا ہے کہ ہر جگہ اسے پھنسانے کے لیے جال بچھادیا گیا ہے اور وہ ہر کام شدت وسختی اورچستی کے ساتھ کرتا رہتاہے۔‘‘(یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ تو دھوکا دیتے ہیں   اور نہ ہی دھوکا کھاتے ہیں  ۔)(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب التاسع عشر، ص۴۲۔
2…تاریخ ابن عساکر، ج۴۴، ص۳۸۰۔
3…تاریخ ابن عساکر، ج۳۰، ص۳۸۶ملتقطا۔