فاروقِ اعظم کا فیصلہ ذرہ بھر تبدیل نہیں کروں گا:
حضرت سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اہل نجران کو ملک بدر کردیا۔مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دور ِخلافت میں وہ لوگ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’يَا اَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كِتَابُك بِيَدِكَ وَشَفَاعَتُك بِلِسَانِكَ اَخْرَجَنَا عُمَرُ مِنْ اَرْضِنَا فَارْدُدْنَا إلَيْهَا یعنی اے امیر المؤمنین اب کاغذی کاروائی آپ کے ہاتھ میں ہے، شفاعت آپ کی زبان پر ہے، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہمیں ہماری زمین سے نکال دیا تھا آپ ہمیں دوبارہ لوٹنے کی اجازت مرحمت فرمادیں ۔‘‘ یہ سن کر مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا: ’’وَيْحَكُمْ إنَّ عُمَرَ كَانَ رَشِيدَ الأَمْرِ وَلا أُغَيِّرُ شَيْئًا صَنَعَهُ عُمَرُ یعنی تمہاری بربادی ہو، بے شک حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بالکل درست فیصلہ فرمانے والے تھے اور یاد رکھو حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جو فیصلہ فرمادیا میں اس میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں کروں گا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کا معاہدہ نہیں توڑوں گا:
حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کوفہ تشریف لائے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’مَا قَدِمْتُ لِاَحُلَّ عُقْدَةً شَدَّهَا عُمَرُ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جو معاہدہ کرلیا تھا میں اسے ہرگز نہیں توڑوں گا۔‘‘(2)
صدیق اکبر وفاروقِ اعظم حکمرانوں کے لیے حجت:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ اللہَ جَعَلَ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ حُجَّةً عَلَى مَنْ بَعْدَهُمَا مِنَ الْوُلَاةِ اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَسَبَقَا وَاللہِ سَبْقاً بَعِيْداً، وَاَتْعَبَا وَاللہِ مَنْ بَعْدَهُمَا إِتِّعَاباً شَدِيْداًیعنی بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر وفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَادونوں کو ان کے بعد آنے والے تمام حکمرانوں کے لیے قیامت تک کے لیے حجت بنادیا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ دونوں (اپنے امورِ خلافت کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۳، حدیث:۳۷۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۳، حدیث:۳۸۔