سے نفرت بے دینی ہے۔٭…’’مَا بَالُ اَقْوَامٍ يَذْكُرُوْنَ اَخَوَىْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَوَزِيْرَيْهِ وَصَاحِبَيْهِ وَسَيِّدَيْ قُرَیْشٍ وَاَبَوَيِ الْمُسْلِمِيْنَ فَاَنَا بَرِيْءٌ مِّمَّنْ یَذْکُرُھُمَا وَعَلَیْہِ مُعَاقِبٌ یعنی لوگوں کو کیا ہوگیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ان دونوں بھائیوں ، وزیروں ، دوستوں ، قریش کے سردار اور مسلمانوں کے روحانی والدین کااس طرح ذکر کرتے ہیں حالانکہ میں ہراس شخص سے بری ہوں جو ان کا اس طرح ذکر کرتا ہے اور اسے سزا دوں گا۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم محبوبِ شیرِ خدا ہیں :
حضرت سیِّدُنا جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدامشکل کشا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کے بعد حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہچادر اوڑھے آرام فرمارہے ہیں ۔ مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا: ’’ مَا عَلَى وَجْهِ الاَرْضِ اَحَدٌ اَحَبُّ الَيَّ اَنْ اَلْقَى اللّٰهَ بِصَحِيفَتِهِ مِنْ هَذَا الْمُسَجَّىیعنی روئے زمین پر مجھے ان چادر اوڑھے ہوئے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے زیادہ کوئی شخص اتنا محبوب نہیں ہےکہ جس کے نامۂ اعمال کے ساتھ میں رب عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کروں ۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم مولاعلی کے خاص الخاص دوست :
حضرت سیِّدُنا ابو سفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو دیکھا گیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکثر ایک مخصوص چادر زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے اس کا سبب پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’ اِنَّهُ كَسَانِيهِ خَلِيلِي وَصَفِيِّي وَصَدِيقِي وَخَاصِّي عُمَرُانَّ عُمَرَ نَاصَحَ اللّٰهَ فَنَصَحَهُ اللّٰهُ ثُمَّ بَكَىیعنی یہ چادر میرے خلیل، صفی، صدیق اور خاص الخاص دوست عمر نے پہنائی ہے۔ بے شک عمر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے خیر خواہی کرتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے خیر خواہی فرماتاہے۔‘‘یہ فرماتے ہوئے رو پڑے۔ (3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیۃ الاولیاء، شعبۃ بن الحجاج، ج۷، ص۲۳۶، الرقم: ۱۰۳۳۲۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۶، حدیث:۵۱۔
3…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۱، حدیث:۳۰۔