کل بروز قیامت ہمیں ایک ساتھ اٹھایا جائے گا اور اسی طرح اکھٹے جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘
٭…’’وَكَيْفَ لَا اَقُوْلُ هٰذَا فِي الْفَارُوْقِ وَالشَّيْطَانُ يَفِرُّ مِنْ حِسِّهٖاور میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اوصاف کیوں نہ بیان کروں کہ شیطان بھی ان کی آہٹ سے بھاگ جاتا تھا۔‘‘
٭…’’فَمَضٰى شَهِيْدًا رَحْمَةُ اللہِ عَلَيْهِ مگر آہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی شہید ہو کر ہم سے بچھڑ گئے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کا ذِکر ضرور کرو:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : ’’اِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلًا بِعُمَرَیعنی جب صالحین (نیک لوگوں )کا ذکر ہو تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر ضرور کیا کرو۔ ‘‘(2)
شیخین سے مؤمن ہی محبت رکھے گا:
حضرت سیِّدُنا زید بن وھب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا سوید بن غفلۃ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنِّيْ مَرَرْتُ بِنَفَرٍ يَذْكُرُوْنَ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بِغَيْرِ الَّذِيْ هُمَا اَهْلٌ لَهُ مِنَ الْاِسْلَامِیعنی اے امیر المؤمنین! میں ایک ایسے گروہ کے پاس سے گزرا جو سیِّدُنا صدیق اکبر وفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا تذکرہ اس طرح کررہے تھے جو اسلام میں روا نہیں ۔‘‘یہ سن کر مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم منبر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا: ٭… ’’وَالَّذِيْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَاَالنِّسْمَةَ لَا يُحِبُّهُمَا اِلَّا مُؤْمِنٌ فَاضِلٌ وَلَا يَبْغَضُهُمَا وَيُخَالِفُهُمَا اِلَّا شَقِيٌّ مَارِقٌ فَحُبُّهُمَا قُرْبَةٌ وَبُغْضُهُمَا مُرُوْقٌ یعنی خالق کائنات کی قسم! صرف حقیقی مؤمن ہی ان دونوں سے محبت کرے گا اور بدبخت وبد دین ہی ان سے نفرت ومخالفت کرے گا کیونکہ ان کی محبت قربت (ایمان حقیقی) اور ان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال، کتاب الخلافۃ مع الامارۃ، خلافۃ امیر المؤمنین۔۔۔الخ، الجزء:۵،ج۳،ص۲۸۵، حدیث:۱۴۲۳۸ ملخصا۔
2…معجم اوسط، من اسمہ محمد، ج۴، ص۱۵۵، حدیث:۵۵۴۹۔