Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
421 - 831
اِلَىَّ مِنْ عُمَرَیعنی روئے زمین پر کوئی شخص ایسا نہیں   ہے جو مجھے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے زیادہ محبوب ہو۔‘‘(1)
شانِ فاروقِ اعظم بزبان مولاعلی شیر خدا
فاروقِ اعظم کے اوصاف حمیدہ:
حضرت سیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت کا پہلا دن تھا ،مہاجرین وانصار مسجد نبوی میں   جمع تھے ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمتشریف لائے اور ایک طویل خطبہ دیا جس میں   اوّلاًرب عَزَّ وَجَلَّکی حمد وثنا بیان کی، ثانیاًرسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدح وثنا بیان کی، ثالثاًامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مناقب کو بیان فرمایا، پھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مناقب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: 
٭…’’قَامَ مَقَامَهُ الْفَارُوْقُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ شَمَّرَ عَنْ سَاقَيْهِ وَحَسَّرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے منصب خلافت سنبھالا ۔ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خلافت کو بطریق احسن سنبھالنے کے لیے کمربستہ ہوگئے۔‘‘
٭…’’لَا تَاْخُذُهُ فِي اللہِ لَوْمَةُ لَائِمٍ فاروقِ اعظم کی شخصیت تو وہ تھی کہ انہیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّکے معاملے میں   کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف اور کوئی ڈر نہ تھا۔‘‘
٭…’’كُنَّا نَرٰى اَنَّ السَّكِيْنَةَ تَنْطِقُ عَلٰى لِسَانِهٖ ہم دیکھتے تھے کہ سکینہ عمر کی زبان پر بولتا ہے۔‘‘
٭…’’وَكَيْفَ لَااَقُوْلُ هٰذَا وَرَاَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ اَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ هٰكَذَا نُحْيِىْ وَهٰكَذَا نَمُوْتُ وَهٰكَذَا نُبْعَثُ وَهٰكَذَا نَدْخُلُ الْجَنَّةَ اور میں   ان کے اوصاف کیوں   نہ بیان کروں   کہ میں   نے خود سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو حضرت سیِّدُنا ابوبکر وعمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے درمیان دیکھا اور یہ فرماتے سنا کہ دنیا میں   ہم اسی طرح رہیں   گے اور دینا سے اسی طرح رخصت ہوں   گے، 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…الادب المفرد، باب الولد، مبخلۃ مجبنۃ، ص۳۲، حدیث:۸۴ ملتقطا۔