یعنی اے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے بہتر۔‘‘تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اَمَا اِنَّكَ اِنْ قُلْتَ ذَاكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَیعنی اگر تم نے مجھے یوں پکارا ہے تو پھر اپنی فضیلت بھی سنومیں نے خود خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمہارے متعلق یہ فرماتے سنا ہے کہ عمر سے بہتر کسی شخص پرسورج طلوع نہیں ہوا ۔‘‘(1)
میں نے سب سے بہتر شخص کو حاکم بنایا:
حضرت سیِّدُنا زبید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بلا بھیجا تاکہ انہیں خلیفہ بنائیں ۔ تولوگوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کیا: ’’اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا فَظًّا غَلِيظًا فَلَوْ مَلَكَنَا كَانَ أَفَظَّ وَأَغْلَظَ , مَاذَا تَقُولُ لِرَبِّكَ إذَا أَتَيْتَه وَقَدِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا یعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہم پر ایک ایسے شخص کو خلیفہ مقرر فرمارہے ہیں جو پہلے ہی بہت سخت مزاج ہے، اگر وہ ہم پر حاکم بن گیا تو پھر وہ زیادہ سختی و شدت سے پیش آئے گا۔ رب عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں جب آپ جائیں گے تو کیا جواب دیں گے؟‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ سن کر ارشاد فرمایا: ’’ أَتُخَوِّفُونِي بِرَبِّي ، أَقُولُ: اللَّهُمَّ اَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ خَيْرَ أَهْلِكیعنی تم مجھے رب عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں جواب دہی سے ڈرا رہے ہو سنو میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّسے عرض کروں گا: یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّمیں نے اُس شخص کو اِن پر حاکم مقرر کیا ہے جو سب سے بہتر ہے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم سے زیادہ کوئی محبوب نہیں :
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میرے والد ماجد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’وَاللہِ مَا عَلَى وَجْهِ الْاَرْضِ رَجُلٌ اَحَبَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۸۴، حدیث:۳۷۰۴۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج۷، ص۴۸۵، حدیث:۴۶۔